• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگی مجرم کی جگہ عدالت کے کٹہرے میں ہے،نہ کہ اقوام متحدہ کے منبر پر: صدر اردگان

Updated: September 27, 2026, 9:25 AM IST | Ankara

ترکی کے صدر طیب اردگان نے ایک بیان میں کہا کہ جنگی مجرموں کی جگہ عدالتوں کے کٹہرے میں ہے،نہ کہ اقوام متحدہ کے منبر پر،صدر نے کہا کہ نسل کشی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

Turkish President Recep Tayyip Erdogan. Photo: X
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان۔ تصویر: ایکس

 استنبول میں۲۱؍ویں موسیاد ایکسپو انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر اور ۲۹؍ویں انٹرنیشنل بزنس فورم کے اختتامی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے کہا، ’’جنگی مجرم کی جگہ اقوام متحدہ کے منبر پر نہیں بلکہ عدالتوں کے کٹہرے ہیں جہاں وہ اپنے کیے گئے جرائم اور بہائے گئے خون کا جواب دیں گے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا، ’’اگر نسل کشی کرنے والوں کو انصاف اور تاریخ کے سامنے جوابدہ نہ ٹھہرایا گیا تو یہی مظالم دوبارہ ہوں گے۔‘‘بعد ازاں انہوں  نے فلسطینیوں کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، ’’فلسطینی عوام تنہا یا بے سہارا نہیں ہیں۔‘‘انہوں نے زور دیا، ’’غزہ میں ہمارے بھائی اور بہنیں حقوق اور انصاف کی تلاش میں تنہا نہیں ہیں۔ہم اپنی پوری صلاحیت کے مطابق سچ بتاتے رہیں گے اور مظلوموں کی آواز بنیں گے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی رکن کانگریس کا اسرائیل سے فلسطینی لیڈر مروان برغوثی کو رہا کرنے کا مطالبہ

اردگان نے ان لوگوں کی تعریف کی جو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہونے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے باہر چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہال سے باہر نکل کر نسل کشی کرنے والوں کو جواب دیا۔‘‘ایردوان نے مزید کہا کہ خطہ بحرانوں کے مکمل طوفان سے گزر رہا ہے، جبکہ عالمی نظام جواز، نمائندگی اور انصاف کے حوالے سے تعطل کا شکار ہے۔علاوہ ازیںمعیشت کی طرف رخ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی نے گزشتہ۲۴؍ سہ ماہیوں میں مسلسل ترقی درجکی ہے اور فی الحال دنیا کی۱۶؍ویں اور یورپ کی چھٹی سب سے بڑی معیشت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا شی جن پنگ کو وہائٹ ہاؤس میں ’آزاد اور بلند پرواز‘ عقاب کا مجسمہ تحفہ

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کی برآمدی کمپنیوں کی تعداد۲۰۰۲ء میں ۳۳۰۰۰؍ سے بڑھ کر۲۰۲۵ء میں ۱۶۸۰۰۰؍ہو گئی ہے۔مزید برآں انہوں نے کہا کہ ’’۲۰؍ دن پہلے اعلان کردہ نئے درمیانی مدت پروگرام کے ساتھ، ہم اپنے پائیدار اور متوازن ترقی کے اہداف کے مطابق پرعزم انداز میں جاری رکھیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK