Updated: April 23, 2026, 10:21 PM IST
| Mumbai
امول (Amul) کی کم معروف اور عجیب مصنوعات سے متعلق ایک وائرل پوسٹ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین روٹی سافٹنر، انسٹنٹ میشڈ پوٹیٹو اور اونٹنی کے دودھ جیسی اشیاء دیکھ کر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ان کی محدود دستیابی اور کمزور مارکیٹنگ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
امول کی مصنوعات۔ تصویر: آئی این این
ہندوستان کے معروف ڈیری برانڈ Amul ایک بار پھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، تاہم اس بار وجہ اس کے اشتہارات نہیں بلکہ اس کی ’’غیر معمولی‘‘ مصنوعات ہیں۔ ایک وائرل پوسٹ کے بعد صارفین نے ایسی متعدد اشیاء شیئر کرنا شروع کر دیں جن کے بارے میں عام خریداروں کو پہلے علم ہی نہیں تھا۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہو جب ایکس پر ایک صارف نے ریڈاٹ کمیونٹی ’’امول پاگل ہوگیا ہے‘‘ کا حوالہ دیا، جہاں لوگ عجیب و غریب امول مصنوعات کی تصاویر اور تجربات شیئر کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک مزاحیہ ٹرینڈ سے بڑھ کر ایک سنجیدہ بحث میں تبدیل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مرکز نے پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا
صارفین نے جن مصنوعات کا ذکر کیا، ان میں روٹی سافٹنر، انسٹنٹ میشڈ پوٹیٹو، کڑھائی دودھ اور یہاں تک کہ اونٹنی کا دودھ بھی شامل ہیں۔ کئی افراد نے کہا کہ انہوں نے یہ اشیاء پہلی بار دیکھی ہیں، جبکہ کچھ نے انہیں ’’مضحکہ خیز‘‘ اور ’’غیر ضروری‘‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آج پتہ چلا کہ امول اونٹ کا دودھ بھی بیچتا ہے!‘‘ جبکہ ایک اور نے کہا کہ اس نے قریبی کرانہ اسٹور میں کڑھائی دودھ دیکھا، جو اس کے لیے حیران کن تھا۔ کچھ صارفین نے مثبت ردعمل بھی ظاہر کیا۔ ایک شخص نے امول کی پنیر کوکیز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گروسری پلیٹ فارم کا انتخاب اسی بنیاد پر کرتا ہے کہ یہ پروڈکٹ دستیاب ہو۔
تاہم، سب سے بڑا سوال ان مصنوعات کی دستیابی پر اٹھایا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے شکایت کی کہ یہ اشیاء بڑے شہروں یا عام اسٹورز میں دستیاب نہیں ہیں۔ ایک تبصرے میں کہا گیا، ’’میرے شہر میں کئی سپر مارکیٹس ہیں، لیکن مجھے ایک بھی امول پروٹین ڈرنک نہیں ملا۔‘‘ دیگر افراد نے اس صورتحال کو کمپنی کی کمزور مارکیٹنگ حکمت عملی سے جوڑا، یہ کہتے ہوئے کہ ’’بغیر تشہیر کے مصنوعات لانچ کرنا اور انہیں محدود جگہوں تک رکھنا سمجھ سے باہر ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر:گرین انرجی، آئی ٹی پارک اور زمینی اصلاحات کو منظوری
کچھ صارفین نے ممکنہ وضاحت بھی پیش کی۔ ان کے مطابق، ان میں سے کئی مصنوعات پہلے بیرونِ ملک مارکیٹس کے لیے تیار کی گئی تھیں اور اب انہیں آہستہ آہستہ ہندوستان میں متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی دستیابی محدود ہے۔ مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق، امول کا یہ ماڈل ’’پائلٹ لانچ‘‘ یا محدود پیمانے پر تجرباتی فروخت ہو سکتا ہے، جہاں کمپنی پہلے مخصوص علاقوں میں مصنوعات کی جانچ کرتی ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا کے دور میں اس طرح کی حکمت عملی اکثر کنفیوژن اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتی ہے۔