مہایوتی حکومت کی کابینہ کے اہم فیصلے، اب نان ایگریکلچر (این اے) اجازت کی لازمی شرط ختم کردی گئی۔
وزیراعلیٰ فرنویس ، نائب وزیراعلیٰ شندے اور دیگر دیکھے جاسکتے ہیں-تصویر:آئی این این
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی زیر صدارت منعقدہ کابینہ میٹنگ میں ریاست کی ترقی، ماحول دوست توانائی اور انتظامی نظام میں بہتری کے لیے متعدد اہم فیصلوں کو منظوری دی گئی، جنہیں بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے فروغ کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
میٹنگ میں کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) پالیسی۲۰۲۶ء کو منظوری دی گئی، جس کے تحت ریاست میں ماحول دوست کچرے کے انتظام کو فروغ دیا جائے گا۔ اس پالیسی کے نفاذ کے لیے ہر ضلع میں ایک رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) اور ہائبرڈ اینوئٹی ماڈل کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ سال میں۵۰۰؍ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا ہدف گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی اور پائیدار ویسٹ مینجمنٹ کو یقینی بنانا ہے۔
زمین سے متعلق ضوابط میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت آکیوپینسی کلاس ۲؍ سے کلاس ون میں تبدیلی کے لیے پریمیم شرحوں کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ وزیر محصول چندرشیکھر باونکولے کے مطابق اب نان ایگریکلچرل (این اے) اجازت کی لازمی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ ڈیولپرز اب بلڈنگ پرمیشن مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے آن لائن ادائیگی کر سکیں گے اور مہا آئی ٹی سافٹ ویئر کے ذریعے خودکار طور پر زمین کی حیثیت اپ ڈیٹ ہو جائے گی، جس سے کاغذی کارروائی میں کمی آئے گی۔
اسی اجلاس میں مغربی مہاراشٹر میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے ضلع ستارا کے ناگے واڑی میں آئی ٹی پارک کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کے تحت ۴۲ء۵۵؍ ہیکٹر زمین مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) کو منتقل کی جائے گی، جس سے مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ کابینہ نے ریاست کے ۷؍ ماڈل کالجوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو اب یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے اصولوں کے مطابق بنیادی تنخواہ دینے کا فیصلہ کیاہے، جبکہ مستقبل میں بھرتی کے عمل کے دوران انہیں اضافی نمبرات بھی فراہم کیے جائیں گے۔ان فیصلوں کو ریاست میں اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور انتظامی عمل کو آسان بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔