وزارت خارجہ کی جانب سے پریس کانفرنس، اقوام متحدہ کے عالمی نقشے پر ملک کا موقف واضح کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اتوار کو پریس کانفرنس کی۔ تصویر: آئی این این
نئی دہلی(ایجنسی) ہندوستان نے مساوی رقبے والے عالمی نقشے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے اور وہ اس کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کے خودمختار علاقے، جس میں جموں و کشمیر اور لداخ بھی شامل ہیں، کو ہندوستان کے سرکاری نقشے کے مطابق ہی دکھایا جانا چاہیے۔ کسی بھی غلط یا گمراہ کن تصویر کشی کو وہ قبول نہیں کرے گا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اتوار کو میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ہندوستان نے ۴؍ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کا مقصد دنیا کے براعظموں کے حقیقی رقبے کو نسبتاً درست طریقے سے دکھانے والے برابر رقبے والے نقشوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ قرارداد کا عنوان’نقشے کو درست کرنا: عالمی میپنگ میں توازن قائم کرنا اور دنیا کے خطوں، خاص طور پر افریقہ، کی مساوی اور منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانا‘ ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہندوستان نے ووٹنگ کے ساتھ اپنی وضاحت میں صاف کیا کہ اس نے قرارداد کے بنیادی اصول برابر رقبے کی بنیاد پر دنیا کے نقشے کو زیادہ متوازن طریقے سے دکھانے کی حمایت کی ہے۔
ہندوستان نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اس قرارداد کو کسی خاص عالمی نقشے، نقشہ سازی کے کسی خاص طریقۂ کار یا قومی سرحدوں کی کسی خاص تصویر کشی کی منظوری نہیں مانا جا سکتااور ہندوستان نے اپنی پوزیشن دہراتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر اس کا موقف واضح، مسلسل ایک جیسا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔