• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رکن پارلیمان سپریا سُلے کا موجودہ تعلیمی نظام پر تشویش کا اظہار

Updated: September 07, 2026, 11:51 AM IST | Ali Imran | Nagpur

تعلیمی کنونشن میں ریاست میں امن و امان اور ڈی جے کے قوانین پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Member of Parliament Supriya Sule. Picture: INN
رکن پارلیمان سپریا سُلے۔ تصویر: آئی این این

ریاست میں موجودہ تعلیمی نظام اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے رکن پارلیمان سپریا سُلے نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ایک طرف بچے پریشان ہیں کہ آیا وہ بارہویں کریں یا نیٖٹ، سی ای ٹی کے امتحانات میں شرکت کریں۔ دوسری طرف عام خاندان اس مہنگی تعلیم کو کیسے برداشت کریں گے۔ انہوں نے یہ سوال مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے کیا۔ انہوں نے ریاست میں امن و امان اور ڈی جے کے قوانین پر بھی حکومت پر سخت تنقید کی۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: سڑک اور پیور بلاکس کے درمیان گہری دراڑ سے خطرہ

سپریا سُلے ناگپور میں منعقدہ ایک تعلیمی کنونشن  سے خطاب کررہی تھیں۔واضح رہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کارپوریشن کی جانب سے ناگپور اور امراوتی ڈویژن کا ایک مشترکہ اجلاس اتوار کو کملا نہرو کالج، شکردرہ میں منعقد کیا گیا  جس میں اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کنونشن کا افتتاح رکن پارلیمان سپریہ سُلے نے کیا۔ اس مو قع پر انہوںنے کہا کہ ملک میں تعلیم کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کیا طلبہ کو بارہویں جماعت تک پڑھنا چاہئے یا حکومت کونیٖٹ  اور سی ای ٹی  جیسے ایک ہی امتحان کا انعقاد کرنا چاہئے؟ امتحانات کے ان مختلف راؤنڈز میں بچوں پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ بچوں کو کتنے امتحانات دینے چاہئیں؟ اور عام خاندان اس مہنگی تعلیم کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟  سپریا سولے نے یہ سوال اٹھایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تعلیم پر سیاست نہیں کر رہے اور ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’گنپتی کے موقع پرریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاسکتی ہے‘‘

سپریہ سلے نے ڈی جے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ناگپور شہر میں ڈی جے سے متعلق قواعد و ضوابط کو سختی سے نافذ کیا جا سکتا ہے تو پورے مہاراشٹر میں اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو چاہئے کہ وہ خود اس معاملے کو دیکھیں اور قواعد پر عمل درآمد کریں۔ تہوار اور تقریبات ضرور منائی جائیں، یہ ہماری ثقافت ہے لیکن انہیں قوانین اور ضوابط کے دائرہ کار میں رہنا چاہئے۔ ہم نے یہ اصول نہیں بنایا کہ رات دس بجے کے بعد ڈی جے بند کر دیے جائیں اور ان کا والیوم محدود کر دیا جائے، یہ عدالت اور انتظامیہ کا حکم ہے۔ سپریا سلے نے کہا کہ  ہم کئی برسوں سے اقتدار میں ہیں۔ تاہم اب ہمیں نئے مسائل پر احتجاج کرنا ہوگا۔ ہمیں احتجاج کرنے کی عادت نہیں تھی۔ اب تعلیمی اداروں کے سربراہان اپنے مختلف مطالبات کیلئے احتجاج کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم اداروں کے سربراہان کا احتجاج کرنا مناسب نہیں۔ ریاست کو ایک بڑے مالی بحران کا سامنا ہے۔ قرضوں کا پہاڑ بڑھتا جا رہا ہے۔ لہٰذا احتجاج کرنے کے بجائے آئندہ تین ماہ کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے اور حکومت سے مختلف مسائل کا حل نکالنے کیلئے بات چیت کی جائے۔

سپریہ سلے نے کہا کہ اگرچہ ہمارے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کے ساتھ شدید اختلافات ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ ہمارے مسئلہ پر انصاف کریں گے۔ مہاراشٹر میں تعلیمی ادارے ایک بڑے مقصد کو ذہن میں رکھ کر قائم کئے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ریاست کے نچلی سطح کے طلبہ کو تعلیم فراہم کرنا تھا۔ اسی لئے سرکاری اسکولوں کے ساتھ امدادی اسکول بھی شروع کئے گئے۔ تاہم آج ان اسکولوں کی حالت بہت خراب ہے۔ حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK