• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ووٹرز کے نام حذف کرنے کا معاملہ: ملزم چند گھنٹے بعد ضمانت پر رہا

Updated: September 07, 2026, 11:33 AM IST | Agency | Godda

بی جے پی کے بوتھ ایجنٹ ونئے نے گوڈا میں نام حذف کرانے کیلئے ۲۰۰؍فارم جمع کرائے جن میں زیادہ تر مسلم ووٹرزتھے۔

Voters whose names were removed from the list can be seen outside the BDO office. Picture: INN
جن ووٹر کا نام لسٹ سے نکالا گیاوہ بی ڈی او دفتر کے باہر دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا میں ایس آئی آر کے دوران تقریباً ۲۰۰؍ ووٹروں کے نام حذف کرانے کیلئے فارم۷؍ جمع کرانے کے الزام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بوتھ لیول ایجنٹ ونئے کمار منڈل کو گرفتار کرلیا گیا۔ تاہم گرفتاری کے چند گھنٹے بعد اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔گوڈا تھانے میں ۳؍ ستمبر کو درج ایف آئی آر کے مطابق منڈل پر بھارتیہ نیائے سنہتا کی ان دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو جعل سازی اور امن میں خلل ڈالنے کے ارادے سے دانستہ توہین سے متعلق ہیں۔ اسکے علاوہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ ۳۱؍بھی لگائی گئی ہے، جو انتخابی فہرستوں کی تیاری کے دوران غلط بیانی سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی میں کثیرمنزلہ عمارت منہدم، طلبہ مقیم تھے، ۵؍ ہلاک

یہ معاملہ گوڈا بلاک کے پچروکھی گاؤں کے بوتھ نمبر۲۳۱؍ سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ مکرم انصاری کے مطابق منڈل نے اس بوتھ کے تقریباً ۲۰۰؍ ووٹروں کے خلاف فارم ۷؍ جمع کرائے۔ انصاری کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد کے نام ووٹر لسٹ میں درست ہیں اور فارم۷؍ کے ذریعے ان کے نام حذف کرانے کی کوشش کی گئی۔بوتھ لیول آفیسر ساجدہ بی بی نے بھی تصدیق کی کہ ۲۹؍ اگست کو منڈل تقریباً۲۰۰؍ فارم۷؍ لے کر ان کے پاس پہنچا تھا۔ انکے مطابق جب انہوں نے فارم دیکھے تو معلوم ہوا کہ ان میں بڑی تعداد میں مسلم ووٹرز کے نام شامل تھے، جن میں خود ساجدہ بی بی اور انکے شوہر کے نام بھی موجود تھے۔ساجدہ بی بی کے مطابق منڈل نے فارم ان کے شوہر کے حوالے کرتے ہوئے ان پر دستخط کرنے اور رسید دینے کا مطالبہ کیا۔ تاہم انہوں نے پہلے دستاویزات کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا اور فارم وصول کرنے سے انکار کردیا۔

منڈل نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ تقریباً۲۰۰؍ فارموں میں زیادہ تر نام مسلم ووٹروں کے تھے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کے اپنے گاؤں، جہاں ہندو آبادی زیادہ ہے، وہاں بھی ایک بی ایل اے نے اسی طرح کے فارم جمع کرائے تھے۔کانگریس کے ضلع جنرل سکریٹری اکبر علی نے بتایا کہ انہیں بڑے پیمانے پر فارم ۷جمع کرائے جانے کی اطلاع ملی تو وہ ساجدہ بی بی کے گھر پہنچے۔ مقامی لوگوں نے منڈل کو بلا کر معاملے کی وضاحت طلب کی، جس کے بعد پولیس اور بلاک حکام بھی موقع پر پہنچ گئے اور شکایت درج کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ۴؍ ریاستوں میں قبل از وقت مردم شماری کااعلان

جھارکھنڈ کے چیف الیکٹورل آفیسر کے روی کمار نے کہا ہے کہ بی ایل اوز فارم ۷ وصول کرنے سے انکار نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق کسی ووٹر کا نام صرف فارم ۷جمع ہوجانے کی بنیاد پر حذف نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے قبل باقاعدہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔دوسری جانب سابق گوڈا بی جے پی رکن اسمبلی امیت منڈل نے ونئے منڈل کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسے بعض لوگوں نے ’غلط طور پر یرغمال‘ بنایا اور اس واقعے میں لنچنگ جیسے حملے کا خطرہ پیدا کیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے میں آر جے ڈی کا ہاتھ ہونے کا بھی الزام عائد کیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK