Updated: September 30, 2026, 6:16 PM IST
| Mumbai
عام طور پر آئی فون کو ایک مہنگا اسمارٹ فون سمجھا جاتا ہے، لیکن لگژری ٹیکنالوجی کی دنیا میں کچھ ایسے خصوصی ماڈلز بھی موجود ہیں جن کی قیمت ایک عام صارف کے تصور سے کہیں زیادہ ہے۔پالمیٹ ۱۸؍کے نامی خصوصی آئی فون کی قیمت تقریباً ۹۴؍ لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
میٹل آئی فون۔ تصویر:آئی این این
عام طور پر آئی فون کو ایک مہنگا اسمارٹ فون سمجھا جاتا ہے، لیکن لگژری ٹیکنالوجی کی دنیا میں کچھ ایسے خصوصی ماڈلز بھی موجود ہیں جن کی قیمت ایک عام صارف کے تصور سے کہیں زیادہ ہے۔پالمیٹ ۱۸؍کے نامی خصوصی آئی فون کی قیمت تقریباً ۹۴؍ لاکھ روپے بتائی گئی ہےجبکہلیکویڈمیٹل ڈیو کی قیمت تقریباً ۲۰؍ لاکھ روپے ہے۔ ان دونوں مصنوعات کو صرف اسمارٹ فون یا ٹیکنالوجی کی مصنوعات کے بجائے اعلیٰ درجے کی لگژری اور دستکاری کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مراکشی گلوکار سعد لمجرد کو عصمت دری کے مقدمے میں ۱۰ ؍ سال قید
پالمیٹ ۱۸؍کےکی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں استعمال ہونے والا۱۸؍ قیراط سونا ہے۔ اس کے ڈیزائن میں قیمتی دھات اور نفیس کاریگری کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت عام آئی فون ماڈلز کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس قسم کے لگژری فون ان صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ منفرد ڈیزائن، قیمتی مواد اور محدود دستیابی کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
دوسری جانب لیکویڈ میٹل ڈیو بھی انتہائی مہنگی اور خصوصی ٹیک مصنوعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی قیمت تقریباً ۲۰؍لاکھ روپے ہے۔ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ڈیزائن میں دھاتی ساخت اور منفرد ظاہری انداز کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس کی قیمت صرف فون کے بنیادی تکنیکی فیچرز کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے خصوصی ڈیزائن، استعمال ہونے والے مواد اور لگژری برانڈنگ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ: اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی ۵۱۰۰؍ خلاف ورزیاں، ۱۴۲۱؍ ہلاکتیں
عام آئی فون اور ان لگژری ماڈلز کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہاں قیمت کا تعین صرف پروسیسر، کیمرا، اسٹوریج یا ڈسپلے جیسے تکنیکی فیچرز سے نہیں ہوتا۔ قیمتی دھاتوں کا استعمال، ہاتھ سے کی جانے والی کاریگری، خصوصی ڈیزائن، محدود پیداوار اور منفرد ظاہری شکل ان مصنوعات کی قیمت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ ۹۴؍ لاکھ روپے کے پالمیٹ ۱۸؍کے کی قیمت اس بات کی بھی مثال ہے کہ اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو فون کو محض مواصلات اور ٹیکنالوجی کے آلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک لگژری اسٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی طرح ۲۰؍لاکھ روپے کالیکویڈ میٹل ڈیو بھی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ درجے کی دستکاری کے امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی بھاری قیمت کے باوجود ان مصنوعات کا بنیادی مقصد عام صارفین کے لیے روزمرہ استعمال کا فون فراہم کرنا نہیں بلکہ انتہائی مخصوص اور صاحبِ ثروت صارفین کے لیے ایک منفرد اور خصوصی پروڈکٹ پیش کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لگژری اسمارٹ فونز کی قیمت روایتی فلیگ شپ فونز سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔پالمیٹ ۱۸؍کے کی ۹۴؍ لاکھ روپے اورلیکویڈ میٹل ڈیو کی ۲۰؍ لاکھ روپے قیمت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسمارٹ فون کی دنیا اب صرف جدید ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی، بلکہ قیمتی دھاتوں، منفرد ڈیزائن، دستکاری اور لگژری طرزِ زندگی نے بھی اس صنعت میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔