کریٹ سومیا نے ایک پوسٹ میں بتایا کہ نگراں وزیر آشیش شیلار نے ۲۴؍ روز قبل ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی تھی اوراسی میٹنگ میں یہ حکم دیا تھا۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 4:45 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
کریٹ سومیا نے ایک پوسٹ میں بتایا کہ نگراں وزیر آشیش شیلار نے ۲۴؍ روز قبل ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی تھی اوراسی میٹنگ میں یہ حکم دیا تھا۔
گزشتہ روز ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ٹرمینل۲) کے قریب واقع مسجد کے خلاف احتجاج اور زہر افشانی کرنے کے بعد اتوار کو بی جے پی کے لیڈر کریٹ سومیا نےایکس پر ایک پوسٹ کی ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی کے نگراں وزیرآشیش شیلار نے اس معاملہ میں پولیس کو مسجد انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ جس میٹنگ میں یہ احکام جاری کرنے کا حوالہ دیا گیا ہےوہ میٹنگ ۲۴؍ دن قبل یعنی یکم اکتوبر کو بلائی گئی تھی۔ حالانکہ اس معاملہ میں مسجد انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مسجد قانونی ہے اور یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے لیڈر کریٹ سومیا نے سنیچر کو مذکورہ مسجد کے خلاف ہتھوڑا اور جیل بھرو احتجاج کیا تھا اور مسجد کو فوراً منہدم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ریلوے میں پینے کے پانی کے ناقص معیار کی اصلاح پرخاص توجہ کا دعویٰ
اس ضمن میں وزیر آشیش شیلار نے یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ممبئی مضافات کے ضلع کلکٹر کے دفتر میں اعلیٰ سطحی میٹنگ طلب کی تھی جس میں بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا، بی ایم سی اور ایم ایم آر ڈی اے کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔ انہوں نے سہار پولیس کو ہدایت دی کہ فوری طور پر ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ ( ایم آئی اے ایل) اور ایئرپورٹ اتھاریٹی کے متعلقہ عہدیداروں کے بیانات قلمبند کئے جائیں اور غیر قانونی سرگرمیوں پر ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کی جائے۔
تنازع کا پس منظر
بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا نے شکایت درج کرائی تھی کہ ایئرپورٹ کے انتہائی حساس وی آئی پی زون اور ٹیکسی پارکنگ کے قریب سرکاری زمین پر قبضہ کر کے غیر قانونی مسجد تعمیر کی گئی ہے ۔ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی( ایم ایم آر ڈی اے ) نے اس ڈھانچے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئےایم آئی اے ایل کو اسے ہٹانے کا خط لکھا تھا جبکہ بی ایم سی نے بھی مسجد کا پانی کا کنکشن غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کاٹنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
انتظامیہ اور اپوزیشن کا رخ
مسجد کے ٹرسٹیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ جگہ قانونی ہے اور ایئرپورٹ اتھاریٹی نے ۲۰۱۵ءمیں یہاں ’مسلم پریئر ہال‘ قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔ دوسری طرف، اپوزیشن جماعتوں ( ایس ڈی پی آئی اور اے آئی ایم آئی ایم ) نے اس کارروائی کی مخالفت کی ہے اور کریٹ سومیا کے خلاف ماحول خراب کرنے کے الزام میں پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے۔