• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندھیری: مسجد کی تعمیر کیلئے محکمۂ داخلہ سے اجازت کیلئے ۳؍ہفتے کی مہلت

Updated: September 05, 2026, 3:18 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Andheri

ایم آئی ڈی سی میںواقع مدرسہ ومسجد کے معاملہ میں عدالت کا حکم ۔ ٹرسٹیان اورایڈوکیٹ نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا، کہا : اس سے مسجدکی تعمیر کے معاملے میں امید بندھی ہے۔

Worshippers offering Friday prayers in the remaining section of Madrasa and Masjid Ghousia Razvia. Picture: Inquilab
مدرسہ ومسجد غوثیہ رضویہ کے بچے ہوئے حصے میں مصلیان نمازِ جمعہ ادا کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

یہاں مشرقی جانب ایم آئی ڈی سی میں مدرسہ عربیہ رضویہ غوثیہ مسجد اہلسنت   کے تعلق سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔مسجد کیلئے دوسری جگہ جو پہلی جگہ سے۱۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ، تعمیر ِنو کیلئے عدالت نے ٹرسٹیان کو محکمۂ داخلہ سے اجازت لینے کیلئے تین ہفتے میں پرپوزل (تجویز )بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرک ٹرمپ کے نئے پاسپورٹ پر والد کی غصے والی تصویر، کہامجھے یہ بے حد پسند ہے

علاقے کی کسی بھی عبادت گاہ کیلئے ایسی شرط نہیں رکھی گئی تھی

عدالت نے ہدایت دینے کے ساتھ یہ تسلیم کیا ہے کہ معاہدے کے مطابق مسجد کی تعمیر کی جانی چاہئے مگر محکمۂ داخلہ سے اجازت حاصل کر لی جائے تاکہ تعمیر میںکسی قسم کا اندیشہ نہ رہے۔عدالت کی ہدایت کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا محکمۂ داخلہ اجازت دے گا ؟ اس لئے کہ ایم آئی ڈی سی علاقے میں۱۲؍ علاقے ہیں اور یہاں پہلے سے موجود تمام مذاہب کی کسی بھی عبادت گاہ کیلئے ایسی شرط نہیںرکھی گئی تھی ۔ اس سے قبل ایم آئی ڈی سی اور آکرتی ڈیولپر (جس کے ذریعے ری ڈیولپمنٹ کیا جارہا ہے) نے تجویز پیش کی تھی مگر محکمہ داخلہ نے نامنظور کردیا تھا۔ چونکہ عدالت نے ہدایت دی ہے اس لئےٹرسٹیان کی جانب سے کوشش کی جائے گی کہ کسی صورت اجازت مل جائے تاکہ مسجد کی تعمیر نو کا مسئلہ حل ہوجائے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۹؍ ستمبر کو ممبئی میں بے روزگار نوجوانوں کیلئے روزگار میلوں کا انعقاد

’’عدالت کے حکم سے امید بندھی ہے‘‘

مدرسہ ومسجد رضویہ غوثیہ اہلسنت نگراں کمیٹی کے فعال رکن اقبال منیار نے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ ’’ دو دن قبل عدالت کی ہدایت سے امید بندھی ہے مگر اجازت ملنے کے تئیں پس وپیش بھی ہے۔ ویسے حقیقت  یہ ہے کہ یہ کام ٹرسٹیان کا نہیںبلکہ ایم آئی ڈی سی اور ڈیولپر کا ہے۔ایم آئی ڈی سی کی جانب سے ہی دوسرا پلان تیار کرکے مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس لئے محکمۂ داخلہ سے اجازت لینا بھی اس کی ذمہ داری ہے مگر ۱۲؍سال سے زائد ہوگیا، اس معاملے میںمحض ٹال مٹول کیا گیا اور بنیاد ڈالنے کے باوجود مسجد کی تعمیر نہیں کی جاسکی ۔اسی بنیاد پر عدالت کا رخ کیا گیا اورعدالت نے مثبت فیصلہ دیا ۔‘‘انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’مدرسہ ومسجد کا جو بچا ہوا حصہ ہے ، اس سے بالکل متصل عمارت کی چہار دیواری کے اندر بنیاد ڈالی گئی تھی مگر شرپسندوں نے شرانگیزی کی اور ڈیولپر کی جانب سے بھی کچھ ایسا طریقہ اپنایا گیا جس سے یہاں مسجد کی تعمیر کا معاملہ معلق ہوگیا۔ حالانکہ یہ کوئی نئی مسجد نہیںہے بلکہ کافی پرانی اوررجسٹرڈ ہے۔ ‘‘ انہوں  نے یہ بھی کہاکہ ’’اگر یہ اندازہ ہوتا کہ ری ڈیولپمنٹ کے نام پرمحض مشکلات کا سامناکرنا ہوگا تو شاید ٹرسٹیان ری ڈیولپمنٹ کے فیصلے سے اتفاق ہی نہ کرتے، جس طرح پہلے مسجد تھی، اسی میں نماز اداکی جاتی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: وزارت برائے صحت کی ریاست کے اسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروں پر نظر

۳؍ ہفتے سے پہلے ہی پرپوزل پیش کرنے کا ارادہ

مدرسہ ومسجد رضویہ غوثیہ اہلسنت نگراں کمیٹی کے فعال رکن اقبال منیار کےمطابق ’’ عدالت کی ہدایت کے بعد اب یہ کوشش کی جائے گی کہ ۳؍ ہفتے سے پہلے ہی محکمۂ داخلہ میںاجازت حاصل کرنے کیلئے پرپوزل پیش کردیا جائے ۔‘‘

’’عدالت نے مثبت فیصلہ دیا ‘‘

مسجد کے کیس کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ سچن ڈھالکے نے بتایا کہ ’’ عدالت کا فیصلہ مثبت ہے ۔ چونکہ یہاں اختلافی مسئلہ رہا ہے اس لئے عدالت نے محکمۂ داخلہ سے اجازت کی شرط رکھ دی ہے تاکہ تعمیر کے دوران کسی قسم کا اختلاف یا اندیشہ نہ رہے ۔ پرپوزل اس طرح سے تیار کیاجائے گا کہ تمام باتیں واضح رہیں اوریہ بھی واضح ہوسکے کہ یہ ذمہ داری ایم آئی ڈی سی کی اورڈیولپر کی ہے، یہ مسجد نئی نہیںبلکہ کافی پرانی ہے۔‘‘ یادر ہے کہ شرپسندوں کی جانب سے رخنہ اندازی کے سبب پولیس کی جانب سے مسجد کی تعمیر سے متعلق پہلے منفی رپورٹ دی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK