آندھرا پردیش کے کڑپہ ضلع میں الماس چوک کے نام کی تبدیلی پر تنازع کے بعد کشیدگی پید اہو گئی ہے، مقامی مسلمانوں نے اس چوک کا نام ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ہندو تنظیموں نے اسے ’’ہنومان چوک‘‘ بنانے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 3:18 PM IST | Hyderabad
آندھرا پردیش کے کڑپہ ضلع میں الماس چوک کے نام کی تبدیلی پر تنازع کے بعد کشیدگی پید اہو گئی ہے، مقامی مسلمانوں نے اس چوک کا نام ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ہندو تنظیموں نے اسے ’’ہنومان چوک‘‘ بنانے کا مطالبہ کیا۔
آندھرا پردیش کے کڑپہ ضلع میں الماس چوک کے نام پر تنازع کے بعد کشیدگی پید اہو گئی ہے، مقامی مسلمانوں نے اس چوک کا نام ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ہندو تنظیموں نے اسے ’’ہنومان چوک‘‘ بنانے کا مطالبہ کیا، اس کشیدگی کے بعد علاقے میں پتھراؤ کے واقعات کی خبر ہے، جس نے نظم و نسق کی صورتحال کے تعلق سے خدشات پیدا کر دئے ہیں۔ روزنامہ سیاست کی خبرکے مطابق تنازع کی شروعات الماس چوک کے نام کی تبدیلی سے ہوئی، ایک جانب مسلمانوں نے اس کا نام ’’ٹیپو سلطان سرکل‘‘ رکھنے کی کوشش کی، جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس کا سرکاری اجازت نامہ موجود ہے، جبکہ ہندو تنظیموں نےاس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’ہنومان چوک‘‘ بنانے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اے پی سی آر نے نفرت انگیز جرائم کا آن لائن ٹریکر لانچ کیا
یہ بحث کچھ ہی دیر میں سنگین صورتحال اختیار کرگئی، اور دونوں جانب سے نعرے بازی کی گئی جو پتھراؤ میں تبدیل ہوگئی۔ تاہم صورتحال سنیچر کو دھماکہ خیز ہوگئی، جب شدت پسندوں نے چوک پر ۳۰؍ فٹ اونچی ہنومان کی مورتی نصب کرنے کی کوشش کی، جس نے مسلمانوں میں اشتعال پیدا کردیا۔عینی گواہوں کے مطابق دونوں جانب بڑی تعداد میں افراد اکٹھے ہوگئے اور ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔اس پتھراؤ میں سرکل انسپکٹراور دو کانسٹیبل زخمی ہوگئے، جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس دوران کئی گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچا۔
بعد ازاں پولیس کی بھاری تعداد نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا، حکام کا کہنا ہے کہ حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں۔جبکہ پولیس نے عوام سے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے، ساتھ ہی امن و امان قائم رکھنے کا مطالبہ کیا ۔
یہ بھی پڑھئے: بہار: امتحان کیلئےاحتجاج کرنیوالے امیدواروں پر لاٹھی چارج
دریں اثناء بی جے پی کے ریاستی صدر پی وی این مادھو نے کہا کہ بی جے پی نے اس علاقے کا نام ٹیپو سلطان سینٹر رکھنے کی تجویز کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے پولیس پر بھی زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ معاملہ سیاسی رخ اختیار نہ کرے اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہندو مذہبی تنظیموں کی طرف سے منعقد کی جانے والی بائیک ریلی کے لیے تحفظ فراہم کرے۔