Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے پی سی آر نے نفرت انگیز جرائم کا آن لائن ٹریکر لانچ کیا

Updated: May 08, 2026, 9:06 PM IST | New Delhi

اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور تقاریر کی دستاویزات کے لیے ایک آن لائن ’’ہیٹ کرائمز ٹریکر‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ نئی دہلی میں لانچ کیے گئے اس پلیٹ فارم میں ۲۰۱۴ء سے اب تک مذہب کی بنیاد پر ۳۵۷۶؍ واقعات درج کیے گئے ہیں، جن میں جسمانی حملے، املاک پر حملے اور نفرت انگیز تقاریر شامل ہیں۔ تنظیم کے مطابق، ٹریکر محققین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے لیے ایک عوامی ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے بدھ کو ایک آن لائن نفرت پر مبنی جرائم کا ٹریکر لانچ کیا، جس کا مقصد ہندوستان بھر میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف ہونے والے تشدد، دھمکیوں اور نفرت انگیز تقاریر کی دستاویز کرنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم، جسے ’’APCR Hate Crimes Tracker‘‘ کا نام دیا گیا ہے، Constitution Club of India میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران متعارف کرایا گیا۔ تنظیم کے مطابق، یہ ٹریکر ۲۰۱۴ء سے اب تک مذہب کی بنیاد پر ہونے والے ۳۵۷۶؍ نفرت انگیز واقعات کا عوامی طور پر قابلِ رسائی ذخیرہ فراہم کرتا ہے۔ اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ۷۴۷؍ جسمانی حملے جبکہ ۳۷۶؍ املاک پر حملے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کا ذخیرہ بر آمد، ملزم فرار

تنظیم کے مطابق، سب سے زیادہ واقعات مرئی مذہبی شناخت کی بنیاد پر رپورٹ کیے گئے، جن کی تعداد ۹۰۸؍ بتائی گئی۔ اس کے بعد ۵۴۷؍ واقعات غیر سبزی خور کھانے کی فروخت یا استعمال سے متعلق تھے، جبکہ ۱۶۶؍ واقعات مذہبی تہواروں کے انعقاد سے جڑے ہوئے تھے۔ ٹریکر میں فی الحال ۲۰۲۴ء سے ۲۰۲۶ء تک کے تفصیلی ریکارڈز شامل کیے گئے ہیں، جن میں ۱۱۵۳؍ نفرت انگیز جرائم اور ۷۶۱؍ نفرت انگیز تقاریر کے واقعات دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ پرانے ڈیٹا کو مرحلہ وار پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ اے پی سی آر کے مطابق، یہ اقدام اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے جو سرکاری اداروں، خاص طور پر نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی جانب سے نفرت انگیز جرائم کی منظم دستاویزات کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہوا۔
لانچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے پی سی آر کے ایڈووکیٹ فواز شاہین نے کہا کہ تنظیم پہلے بھی وقتاً فوقتاً نفرت انگیز جرائم سے متعلق رپورٹس جاری کرتی رہی ہے، لیکن اب اس ڈیٹا کو ایک منظم اور قابلِ تلاش شکل میں عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ پلیٹ فارم صرف رپورٹ ہونے والے واقعات کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ بہت سے معاملات کم رپورٹنگ یا دستاویز نہ ہونے کے باعث ریکارڈ میں شامل نہیں ہو پاتے۔ تنظیم کے مطابق، ہر واقعے کو ایک منظم طریقہ کار کے ذریعے جانچا جاتا ہے، جس میں سوشل میڈیا، عوامی ذرائع اور دستیاب رپورٹس کی کراس ویریفکیشن شامل ہوتی ہے۔ اے پی سی آر نے بتایا کہ واقعات کی درجہ بندی کرتے وقت ہجوم کی شمولیت، مذہبی دقیانوسی تصورات، دھمکی آمیز زبان اور یو این کے رباط پلان آف ایکشن جیسے عالمی فریم ورک کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: خاتون آئی پی ایس افسر کا خفیہ آپریشن، سادہ لباس میں سڑک پر نکلیں

تقریب میں متعدد وکلاء، کارکنان اور دانشوروں نے شرکت کی، جن میں ہرش مندر، پرشانت بھوشن، اپوروانند اور پامیلا فیلیپوز شامل تھے۔ مقررین نے نفرت انگیز تقاریر اور جسمانی تشدد کے درمیان تعلق، ادارہ جاتی خاموشی اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حالات میں آزاد اور خودمختار دستاویزات نہایت ضروری ہیں تاکہ نفرت پر مبنی تشدد کے رجحانات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ اے پی سی آر نے کہا کہ نئے واقعات کی تصدیق ہوتے ہی ٹریکر کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK