Updated: May 10, 2026, 4:08 PM IST
| Budapest
ہنگری میں ۱۶؍ برس تک اقتدار پر قابض رہنے والے وزیراعظم Viktor Orbán کے دور کا خاتمہ ہوگیا اور Peter Magyar نے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھالیا۔ ان کی کامیابی کو ہنگری کی سیاست میں بڑی تبدیلی اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی امید قرار دیا جا رہا ہے۔
پیٹر میگیار تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ہنگری میں ۱۶؍ سال تک اقتدار میں رہنے والے وزیراعظم وکٹر اوربان کے دور کا اختتام ہوگیا جبکہ سینٹر رائٹ جماعت تیسزا پارٹی کے لیڈر پیٹر میگیار نے ملک کے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھالیا۔ ۴۵؍ سالہ پیٹر میگیار نے گزشتہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی جماعت نے۱۹۹؍ رکنی پارلیمنٹ میں ۱۴۱؍ نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی، جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر ہنگری کے وزیراعظم بن گئے۔ حلف برداری کی تقریب دارالحکومت بڈاپیسٹ میں واقع تاریخی پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ یورپی یونین کا جھنڈا۱۲؍ برس بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کے اندر دوبارہ آویزاں کیا گیا، جسے نئی حکومت نے یورپ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی علامت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’سوویت عوام نے نازی ازم کی شکست میں بہتر کردار ادا کیا اور دنیا کو نجات دلائی‘‘
پیٹر میگیار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہنگری اب تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اور ملک کو سیاسی و معاشی جمود سے نکالنے کیلئے بڑے فیصلے کئے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نظام کی تبدیلی کے دروازے سے آگے بڑھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں یورپی یونین کے ساتھ خراب تعلقات کی بحالی، معیشت کی بہتری اور بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے پر قابو پانا شامل ہے۔ وکٹر اوربان کے دور میں ہنگری کے روس کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے جبکہ یورپی یونین کے ساتھ اختلافات بڑھتے گئے تھے۔ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق خدشات کے باعث یورپی یونین نے ہنگری کے تقریباً۲۰؍ ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر رکھے ہیں، جنہیں نئی حکومت بحال کرانے کی کوشش کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹر میگیار کیلئے سب سے بڑا امتحان سابق حکومت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور خود کو اوربان کی پالیسیوں سے مختلف ثابت کرنا ہوگا۔ اگرچہ میگیار نظریاتی طور پر دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی کامیابی کو ہنگری کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پیٹر میگیار۲۰۲۴ء سے پہلے ہنگری کی سیاست میں زیادہ معروف نہیں تھے، تاہم، وکٹر اوربان کی جماعت فیدیز سے اختلافات کے بعد وہ تیزی سے عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔