• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آندھرا پردیش: لاٹھیوں کی علامتی جنگ میں اصلی لڑائی چھڑ گئی

Updated: October 23, 2026, 1:02 PM IST | Agency | Kurnool

کرنول ضلع میں واقع دیوراگٹّو میں ’بنی‘ تہوار میںلاٹھیوں سے لڑی جانے والی ایک روایتی علامتی جنگ کے دوران تشدد بھڑک اٹھا، ایک شخص ہلاک،۱۰۰؍سے زیادہ افراد زخمی۔

The area presented the scene of a battlefield. Photo: INN
علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کررہا تھا۔ تصویر: آئی این این

آندھرا پردیش کے کرنول ضلع کے دیوراگٹّو میں ’بنی‘ تہوار کے دوران تشددبھڑک اٹھا۔ لاٹھیوں کی اس علامتی جنگ جسے مقامی لوگ ’کرّلا سمرم‘کے نام سے جانتے ہیں،کے دوران شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ مالا ملیشور سوامی کی مورتیوں کے جلوس کے دوران منعقد ہونے والا یہ تہوار کسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ یہ تشدد آدھی رات کے بعد جلوس کے دوران شروع ہوا۔ گاؤں والوں نے پرانی رنجش کے تحت ایک دوسرے پر پتھروں، لاٹھیوں اورمشعلوں سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ۱۰۰؍  سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ لاٹھیوں کے اس حملے میں الورکے رہائشی ۲۸؍سالہ پوتھو راجو کی موت ہو گئی۔ زخمیوں کا علاج الورکے سرکاری اسپتال میں چل رہا ہے۔ دیوراگٹّو میں اب بھی کشیدگی برقرار ہے۔ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی موجودگی کےباوجود، وہ لاٹھیوں کی اس جنگ کو روکنے میں ناکام رہے اور بے بس نظر آئے۔

تہوار میں۳۰؍ ہزار افراد کی شرکت

کرنول ضلع کےہولاگنڈا منڈل کے دیوراگٹّوبنی تہوار کے دوران جب نیرنیکی تانڈا اور کوتھہ پیٹ کے گاؤں والے مالا ملیشور سوامی کی مورتیوں کو پہاڑی سےنیچے لا رہے تھے، تو اسی وقت الور، اریکیرا اور یلارتی کے گاؤں والے لاٹھیاںلیے ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ یہ ایک ایسی تقریب ہے جو روایتی طور پر چلی آ رہی ہے۔ تاہم اس بار یہ حقیقی کشیدگی اور جھڑپ میں تبدیل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے:پیلی بھیت کی ووٹر لسٹ میں بے ضابطگی، چارافسران کو ہٹایا گیا

میدانِ جنگ کا منظر

ضلع ایس پی وکرانت پاٹل کی جانب سے پولیس کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کے باوجود وہ لاٹھیوں کی اس جنگ کو نہیں روک سکے۔ روایتی طورپر لڑی جانے والی یہ جنگ اس بار انتقامی حملوں میں تبدیل ہو گئی۔ گاؤں کے مختلف لوگوں نے جان بوجھ کر ایک دوسرے پر جلتی ہوئی مشعلیں پھینکنا شروع کر دیں، جس کی وجہ سے خواتین سمیت کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ کچھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال تقریباً ۲؍گھنٹے تک برقرار رہی۔ کچھ لوگوں کو لاٹھیوں کی لڑائی کے دوران جان بوجھ کر زمین پر گرا کر مارا پیٹا گیا۔اسی دوران دھکا مکی اور بھگدڑ مچنے کی وجہ سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

حملے میں۱۰۰؍ افراد زخمی

ابتدائی جانکاری کے مطابق، اندازاً۱۰۰؍ سےزائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان تمام زخمیوں کو پہلے دیوراگٹّو کے ابتدائی طبی امدادی کیمپ میں ابتدائی علاج فراہم کیا گیا، اور جن کی حالت تشویشناک تھی انہیں ایمبولینس کے ذریعے الور کےسرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ لاٹھیوں کی اس جنگ میں الور کے پوتھو راجو نام کے شخص کی موت ہو گئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ وہیں کئی لوگوں کے سر پھٹ گئے ہیں۔ شدید زخمی ہونے کی وجہ سے بہتر علاج کے لیے انہیں ادونی کے سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ضلع ایس پی اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والی اس لڑائی اور پتھراؤ کو دیکھ کر بھی بے بس نظر آئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK