جے رام رمیش نے کہا کہ ۱۰؍کروڑ سے زیادہ ووٹرس کے حق رائے دہی پر خطرہ منڈلا رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی ہے۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 1:26 PM IST | Agency | New Delhi
جے رام رمیش نے کہا کہ ۱۰؍کروڑ سے زیادہ ووٹرس کے حق رائے دہی پر خطرہ منڈلا رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں شدید ناراضگی ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ملک میں ووٹ چوری اب ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے ۔اس کی وجہ سے ۱۰؍کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کے آئینی حق رائے دہی پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے نئے ووٹروں کے اندراج میں رکاوٹیں پیدا کرنے کیلئےہ فارم۶ ؍میں غیرقانونی اور غیر آئینی تبدیلیاں کی ہیں جب کہ فارم۷؍کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کو بھی فروغ دیا گیا ہے تاکہ ووٹر لسٹ سے مخصوص افراد کے نام ہٹائے جا سکیں۔
کانگریس لیڈرجے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں چیف الیکشن کمشنر پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ای سی آئی نیٹ کے استعمال کے ذریعہ ووٹر لسٹ پر کنٹرول کو مرکزی سطح پر مرکوز کر دیا گیا ہے اور اس عمل میں تمام قانونی حفاظتی ضابطوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران قانونی تحفظات کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات پر پورے ملک میں غصہ پایا جاتا ہے اور عوام میں شدید ناراضگی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وسط مدتی الیکشن سے قبل ٹرمپ کی مقبولیت ۳۶؍ فیصد پر سمٹ گئی: سروے
ان کے مطابق دباؤ اور پابندیوں کے باوجود احتجاج جاری ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا۔ جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم کا پورا نظام مایوسی اور گھبراہٹ کا شکار ہے اور لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لیے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں اور ملک کے عوام انہیں جواب دہ ٹھہرائیں گے۔
کتنے ووٹرس متاثر ہونے کا امکان ہے؟
ایس آئی آر کی وجہ سے ایک اندازہ کے مطابق ۱۳؍ کروڑ ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹادئیے گئے ہیں۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ کم از کم ۱۰؍ کروڑ ووٹرس کے نام ہٹائے گئے ہیں۔ اس تعلق سے رپورٹس میں بھی یہی اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں کہ ۱۰؍ کروڑ سے ۱۳؍ کروڑ کے درمیان نام پورے ملک کی ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں جو بہت بڑی تعداد ہے۔