آنگن واڑی کارکنوں نےحکومت کی جانب سے بچوں اور حاملہ خواتین کو فراہم کیا جانے والا ناقص معیار کا ’ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر)‘ کے خلاف آزاد میدان پر احتجاج کیا۔ آنگن واڑی کارکنوں کیلئے یہ مسئلہ ایک بڑی پریشانی بن گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 9:02 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
آنگن واڑی کارکنوں نےحکومت کی جانب سے بچوں اور حاملہ خواتین کو فراہم کیا جانے والا ناقص معیار کا ’ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر)‘ کے خلاف آزاد میدان پر احتجاج کیا۔ آنگن واڑی کارکنوں کیلئے یہ مسئلہ ایک بڑی پریشانی بن گیا ہے۔
آنگن واڑی کارکنوں نےحکومت کی جانب سے بچوں اور حاملہ خواتین کو فراہم کیا جانے والا ناقص معیار کا ’ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر)‘ کے خلاف آزاد میدان پر احتجاج کیا۔ آنگن واڑی کارکنوں کیلئے یہ مسئلہ ایک بڑی پریشانی بن گیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ استفادہ کنندگان ناقص معیار کے اجناس کو استعمال کرنے سےانکار کرتے ہیں۔ اجناس کو کھانے کے بجائے اسے جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ممبئی ضلع کے آنگن واڑی کارکنوں کے آزاد میدان میں ایک دن کے احتجاج میں ناقص اجناس کی سپلائی بند کرنے کاپُرزور مطالبہ کیا گیا۔
آنگن واڑی ایمپلائز یونین کی جنرل سیکریٹری سنگیتا کامبلے نے بتایا کہ ’’ہم ۶؍ ماہ سے ۶؍ سال کی عمر کے بچوں کی ذمہ داری اُٹھاتے ہیں۔ ہم والدین میں بیداری لاتے ہیں تاکہ ان بچوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک ملے لیکن انہیں جو راشن دیا جاتا ہے، اس کی کوالیٹی اس قدر ناقص ہوتی ہے کہ تقریباً ۸۰؍ فیصد بچے اور والدین اسے کھانے کےبجائے ضائع کر دیتے ہیں ۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ آنگن واڑی کارکنوں کے محکمہ خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے جوائنٹ سیکریٹری وی آر ٹھاکر نے اس ضمن میں یقین دہانی کرائی ہےکہ ’ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر)‘ کے معیار کی جانچ کی جائے گی اور آنگن واڑی کے کارکنوں کیلئے مراعات بھی بڑھائے جائیں گے۔‘‘