سوشل میڈیا پر ’’ میں پراؤڈ کاکروچ‘‘ مہم کےبعد جسٹس سوریہ کانت نے افسوس کا اظہار کیا، کہا:عام نوجوانوں پر تنقید نہیں کی، صرف ان پر تنقید کی تھی جوفرضی ڈگری لے کر وکالت جیسے شعبے میں داخل ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 11:01 AM IST | New Delhi
سوشل میڈیا پر ’’ میں پراؤڈ کاکروچ‘‘ مہم کےبعد جسٹس سوریہ کانت نے افسوس کا اظہار کیا، کہا:عام نوجوانوں پر تنقید نہیں کی، صرف ان پر تنقید کی تھی جوفرضی ڈگری لے کر وکالت جیسے شعبے میں داخل ہوتے ہیں۔
نئی دہلی (ایجنسی): ملک بھر میں شدید تنقیدوں ، برہمی اور سوشل میڈیا پر ’’میںپراؤڈ کاکروچ‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مہم چلنے کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے جمعہ کے اپنے تبصرہ پر سنیچر کو صفائی پیش کی اور کہا کہ انہوں نے عام نوجوانوں کو کاکروچ نہیں کہاہے۔ چیف جسٹس کے مطابق میڈیا نے انہیں غلط پیش کیا۔ سنیچر کو ان کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہاگیا ہے کہ انہوں نے ایسے نوجوانوں کونشانہ بنایاتھا جو فرضی ڈگری لے کر وکالت جیسے شعبوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امتحانی ادارہ یہ ضمانت کب دیگا کہ اب پرچہ لیک نہیں ہوگا؟
یاد رہےکہ سینئر ایڈوکیٹ کاعہدہ نہ ملنے پر ایک نوجوان وکیل کی جانب سے داخل کی گئی عرضی پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے ’لائیو لاء‘ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ’’کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں، جنہیں نہ کوئی ملازمت ملتی ہے نہ پروفیشن میں ان کی کوئی حیثیت ہوتی ہے، ان میں سے کچھ میڈیا ، کچھ سوشل میڈیا ، کچھ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ اور کچھ اور طرح کے ایکٹیوسٹ بن کر ہر کسی پر حملہ شروع کردیتے ہیں۔‘‘ ان کے اس بیان سے یہ تاثر قائم ہوا کہ وہ سسٹم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کاکروچ قرار دے رہے ہیں۔سماجی کارکنوں، وکلا، صحافیوں اور حتیٰ کہ اراکین پارلیمان نے بھی چیف جسٹس کی زبان پر سوال اٹھایا اور کہا ہے کہ یہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ آر جے ڈی کے رکن پارلیمان منوج کمار جھا نے ایکس پر چیف جسٹس کے نام کھلا خط پوسٹ کردیا اور کہا کہ نہ صرف چیف جسٹس کی زبان تشویشناک ہے بلکہ یہ بات اور بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ آئینی جمہوریت کاچیف جسٹس ایسی زبان استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے لکھاکہ’’ مسئلہ صرف الفاظ کے انتخاب کا نہیں بلکہ ان تبصروں میں جھلکنے والے رویے کا ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’ہماری عدالتی تاریخ کی خوبصورت روایت رہی ہے کہ عدالتوں نے اپنے الفاظ کے ذریعے بھی جمہوریت کو وقار بخشا ہے۔‘‘ منوج جھا نےکہا کہ ہندوستان کے’’بے روزگار نوجوان، آر ٹی آئی کارکن، آزاد صحافی اور اختلافی آوازیں‘‘ان’’بہت سی آوازوں‘‘ میں شامل ہیں جو’’جمہوریت کو زندہ رکھتی ہیں اور امید کے دائرہ کو وسیع کرتی ہیں۔‘‘معروف وکیل گوتم بھاٹیہ، صحافی پیوش مشرا اور کئی دیگر اہم شخصیات اور سماجی کارکنان نے بھی چیف جسٹس کے بیان پر اعتراض کیا۔ ملک بھر میں شدید تنقیدوں کے بعد سنیچر کو چیف جسٹس سوریہ کانت نے بیان جاری کیا کہ ’’مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ میڈیا کے ایک طبقے نے کل(جمعہ کو) ایک فضول مقدمے کی سماعت کے دوران میرے زبانی مشاہدات کو غلط انداز میں پیش کیا۔ میں نے خاص طور پر ان لوگوں پر تنقید کی تھی جو جعلی اور فرضی ڈگریوں کی مدد سے وکالت جیسے پیشے میں داخل ہوئے ہیں۔ اسی طرح کے کچھ لوگ میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر معزز پیشوں میں بھی گھس آئے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’یہ کہنا سراسر بے بنیاد ہے کہ میں نے ملک کے نوجوانوں پر تنقید کی ہے۔ ‘‘