شدید گرمی کے باوجود اللہ کے مہمانوں کا جوش قابل دید ۔عزیزیہ سے حرم پاک تک جگہ جگہ سبیلیں اور بوتل بند پانی کی تقسیم ، عازمین کو مختلف مسائل کا سامنا۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 11:56 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
شدید گرمی کے باوجود اللہ کے مہمانوں کا جوش قابل دید ۔عزیزیہ سے حرم پاک تک جگہ جگہ سبیلیں اور بوتل بند پانی کی تقسیم ، عازمین کو مختلف مسائل کا سامنا۔
لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے عازمین کے قافلے سوئے حرم روانہ ہوتے رہتے ہیں۔ شدید گرمی کے باوجود اللہ کے مہمانوں کا جوش قابل دید ہے۔ گرمی کے شدت کے سبب سبب عزیزیہ سے حرم پاک تک جگہ جگہ پانی کی سبیلیں اوربوتل بند پانی کی تقسیم کی جارہی ہے۔ احرا م کی چادریں اوڑھے عازمین قطار سے بس کے اندر داخل ہوتے ہیں تو عجیب روحانی منظر ہوتا ہے اور مرد وخواتین سبھی کا شوقِ عبادت دیدنی ہے ۔ مکہ ٹاور کے اطراف بھی جگہ جگہ حکومت کے رضا کار ٹھنڈے پانی کی بوتلیں تقسیم کر تے رہتے ہیں۔ اس نظم کی وجہ سے سخت گرمی میں عازمین کسی قدر راحت محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر حکومت کا نوٹس:اولا، اوبر اور ریپیڈو کی بائیک ٹیکسی ایپس ہٹانے کا حکم
عازمین سے رابطہ قائم کرنے پر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عازمین کی کثرت کے سبب اب بسوں کی آمد ورفت میںکافی وقت لگ جاتا ہے۔ ہر عمارت کے نیچے الگ الگ نمبروں کی بسیں مقرر کی گئی ہیں مگر عازمین کوحر م پاک پہنچنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس کی وجہ اور گرمی کےسبب کچھ عازمین کی طبیعت بھی خراب ہونے لگتی ہے۔
عزیزیہ سے عازمین کو لے جانے کےلئے بسوں کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی گئی ہے کہ پہلے قُدئی نامی علاقے تک لایاجاتا ہے پھروہاں سے دوسری بس کے ذریعے عازمین کو حرم پاک پہنچایا جاتا ہے ،یہی ترتیب حرم شریف سے عزیزیہ واپسی میں بھی ہوتی ہے۔ البتہ عازمین کی یہ شکایت ہے کہ حج پر روانگی سے قبل حج کمیٹی آف ا نڈیا کی جانب سے رہنمائی اور دیگر انتظامات کے تعلق سے جو دعوے کئے جاتے ہیں، یہاں پہنچنے کے بعد محسوس ہوا کہ ان میں صداقت نہیںہے، بسا اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ عازمین کوبے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کھانے کامعقول نظم نہ ہونےسے عازمین کا کافی وقت کھانے پینے کے نظم میںگزرجاتا ہے ،اس کی وجہ سے ایک طرح سے ذہنی انتشار بھی رہتا ہےاورجیب پربھی زیادہ بوجھ پڑتاہے ۔
یہ بھی پڑھئے: اب ۲۰؍ سے کم طلبہ والے اسکولوں کو بند نہیں کیا جائے گا، حکومت کا نیا فیصلہ
کچھ عازمین کایہ بھی کہنا تھا کہ انہیںیہ اندازہ ہے کہ عازمین کی کثرت کے سبب ہر چیز میں تاخیر ہوگی، آمد و رفت میں بھی دشواری ہوگی مگر ہندوستانی حاجیوں کے لئے انتظامات کرنے والی ایجنسیوں کے تساہل کا بھی کہیں نہ کہیں اس میں دخل ہے ، اسی لئے ہندوستانی عازمین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دیگر ممالک کے عازمین کے ساتھ اس طرح کے مسائل کم ہیں۔ عازمین کے مطابق اس پر توجہ دینے اور شکایات کے ازالے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ کے مہمان یکسوئی کے ساتھ ارکانِ حج ادا کرنے کے ساتھ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت اور رجوع الی اللہ میں گزار سکیں۔