Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرکاری زمینوں پر۲۰۱۱ء تک کی تعمیرات کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان

Updated: March 30, 2026, 11:06 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ان تعمیرات کی بازآبادکاری کی جائے گی، ریاستی حکومت کا اعلان، اس اسکیم میں ممبئی اور ایم ایم آر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ۵۰۰؍ مربع فٹ کی جگہ ہی مفت ریگولرائز جائیگی۔

Mumbai and MMR are not included in this rehabilitation plan of the state government. Photo: INN
ریاستی حکومت کے اس بازآبادکاری منصوبے میں  ممبئی اور ایم ایم آر کو شامل نہیں  کیاگیا ہے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری۲۰۱۱ءتک سرکاری زمینوں پر تمام تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کو قانونی قرار دے کر ان کی باز آباد کاری کی جائے گی اور اہل مکینوں کو فی کس ۵۰۰؍ اسکوائر فٹ تک کا قانونی مکان مفت دیاجائے گا۔ لیکن اس اسکیم میں ممبئی اور ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن( ایم ایم آر) کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے بجٹ اجلاس میں حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیاگیا ہے اور اسے کابینہ کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ 
کابینہ میں منظور کردہ تجویز کے مطابق ایک خاندان سے صرف ایک تجاوزاور غیر مجاز تعمیرات کو ریگولرائز کیا جائیگا۔ ۱۵۰۰؍ مربع فٹ تک کے علاقے کو ریگولرائز کیا جائیگا، اور ۵۰۰؍ مربع فٹ تجاوزات کو بلا معاوضہ ریگولرائز کیا جائیگا۔ اس تعلق سے وزیر محصولات چندر شیکھر باونکولے نے بتایا کہ یہ پالیسی مہاراشٹر کے دیگر شہری اور دیہی حصوں کے رہائشیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنائی گئی ہے، جس پر عمل درآمد کے لیے ضلع، سب ڈویژنل اور تعلقہ کی سطح پر وقف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ 
واضح رہے کہ اس سے قبل۴؍ اپریل۲۰۰۲ء کو ریاست نے سرکاری زمین پر رہائشی یا تجارتی تجاوزات کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا تھا جو یکم جنوری۱۹۹۵ءسے پہلے کی گئی تھیں۔ اب ریاست میں غریب اور ضرورتمند خاندانوں کیلئے رہائش کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے محکمہ محصولات نے پوری ریاست میں سرکاری اراضی پر تجاوزات کو باقاعدہ بنانے کیلئےممبئی کو چھوڑ کر ایک نئی پالیسی تیار کی ہے، جسے منظور کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یکم جنوری۲۰۱۱ءتک غیر زرعی اراضی پر رہائشی تجاو اور غیر مجاز تعمیرات کو پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکانات فراہم کئےجائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: باندرہ: مصروف ترین سڑک کی مرمت کا کام مکمل

خاندان کے ایک ہی فرد کو فائدہ ملے گا
اس پالیسی کے مطابق صرف رہائشی مقاصد کیلئے بنائے گئے غیر مجاز مکانات اور تجاوزات کو ریگولرائز کیا جائے گا اور فی خاندان صرف ایک غیر مجاز تعمیر کو ریگولرائز کیا جائے گا۔ اس کیلئے ووٹر لسٹ میں نام، بجلی کا بل، پراپرٹی ٹیکس کی رسید پچھلے ایک سال کی رہائش کا ثبوت درکار ہوگا اور راشن کارڈ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت۱۵۰۰؍ مربع فٹ تک کی تعمیر کو باقاعدہ بنایا جائیگا۔ اس میں ۵۰۰؍مربع فٹ کی تعمیر مفت ہوگی اور اسکے بعد اضافی تعمیرات کیلئے موجودہ ریڈی ریکنر کے حساب سے ۱۰؍ فیصدچارج کیا جائے گا اور اگر رہائشی جگہ کا کچھ حصہ کمرشل دکان، آٹے کی چکی ہے تو ۲۵؍ فیصد ریڈی ریکنر چارج وصول کیا جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ ۱۵۰۰؍ مربع فٹ کو ریگولرائز کیا جائے گا اور اسکےبعد حصہ کو منہدم کر دیا جائے گا۔ 
پالیسی کی چند اہم تفصیلات :
مفت ریگولرائزیشن ایریا: ۵۰۰؍ مربع فٹ تک کی رہائشی تجاوزات کو مکمل طور پر مفت ریگولرائز کیا جائے گا۔ 
رقبہ کی حدود:۵۰۰؍ تا ۱۵۰۰؍مربع فٹ کے درمیان کے ڈھانچے کو ریگولرائز کیا جا سکتا ہے، لیکن قابضین کو موجودہ مارکیٹ ویلیو کارہائشی کیلئے ۱۰؍ فیصد اور کمرشل استعمال کیلئے ۲۵؍ فیصد کی فیس ادا کرنا ہوگا۔ 
خارج کئےگئے علاقے: پالیسی میں ممبئی شہر اور ممبئی مضافاتی اضلاع سمیت ایم ایم آر شامل نہیں ہیں۔ 
خارج شدہ اراضی کی قسمیں : حساس زمینوں پر تجاوزات، بشمول دریا کے کنارے، نہروں، چراگاہوں ، عوامی سڑکوں، جنگلاتی علاقوں، اور اسکولوں یا اسپتالوں کے لیے مختص زمینوں کو ریگولرائز نہیں کیا جائے گا۔ 
درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ یہ ڈھانچہ یکم جنوری ۲۰۱۱ءسے پہلے موجود تھا، ووٹر آئی ڈی، بجلی کے بل، یا پراپرٹی ٹیکس کی رسیدیں، پچھلے سال رہائش کے ثبوت کے ساتھ۔ 
 اگر رہائشی ڈھانچے کا ایک حصہ تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، تو مارکیٹ ویلیو کا ۲۵ ؍ فیصد چارج کیا جائے گا۔ 
ملکیت کی قسم: زمین ’مقبوضہ کلاس۔ ۲‘ کے زمرے میں درج کی جائے گی، عام طور پر شوہر اور بیوی کے مشترکہ نام پر۔ 
درخواست کی آخری تاریخ: اس ریگولرائزیشن کیلئے درخواست دینے کی آخری تاریخ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۶ء ہے۔ 
منتقلی پر پابندی: اس اسکیم سے استفادہ کرنے والے پراپرٹی کو ۵؍ سال تک فروخت یا منتقل نہیں کر سکتے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK