فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلرس اسوسی ایشن کا اعلان ، سبھی دکانداروں اور بیوپاریوں سے اپنی دکانوں پرنو یوپی آئی کا پوسٹر لگانے اور نقد لین دین کی اپیل۔
یوپی آئی پر چارج نے تاجروں کیلئے مشکل کھڑی کردی ہے۔ تصویر: آئی این این
۱۵؍اکتوبر سے یوپی آئی لین دین پر عائدہونےوالی فیس کے خلاف فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلرس اسوسی ایشن نے ۲؍ اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے ‘ منانے کا اعلان کیا ہے ۔ فیڈریشن نے سبھی دکانداروں اور بیوپاریوں سے اپنی دکانوں پر نو یوپی آئی کا پوسٹر لگانے اور نقد لین دین کی ہدایت جاری کی ہے ۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یو پی آئی ادائیگیوں پر چارجز فی الحال بہت کم ہیں لیکن مستقبل میں ان میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔اسی وجہ سے ملک بھر کے تاجروں ،دکانداروں اور بیوپاریوںنے یو پی آئی لین دین پر چارجز کی مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ۔ اس پس منظر میں فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرز ویلفیئر اسوسی ایشن کے صدر ویرین شاہ نے کہاکہ ۲؍اکتوبر کو قومی سطح پر ’نو یو پی آئی ڈے‘ کے نام سے ایک علامتی مہم کو نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کریڈٹ کارڈس کی طرز پر یو پی آئی پر فیس وصول کرنے کی کوشش ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے تاجروں اور بیوپاریوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔شاہ نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے تاجروں میں شدید عدم اطمینان ہے۔
اس تعلق سے ملک بھر کے تاجروں کی ناراضگی کو حکومت تک پہنچانے کیلئے ۲؍اکتوبر کو تمام تاجر اپنے اسکینرز، کیو آر کوڈز اور ساؤنڈ باکسز کو کالے کپڑوں سے ڈھانپ کر حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔تنظیم نے تاجروں سے نو یو پی آئی ڈے کے ذریعے متحد ہو کر اپنی مخالفت درج کرنے کی اپیل کی ہے۔ دکانداروں کو چاہئے کہ وہ دکان کے داخلی دروازے، کیش کاؤنٹر یا شوکیس پر مہم کے پوسٹرز لگائیں۔اس کے ساتھ تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
ملک بھر کے تاجروں کی پریشانی
تاجروں کو پہلے ہی جی ایس ٹی کے ذریعے حکومت کو کئی گنازائد ٹیکس ادا کرنا پڑرہا ہے۔ اب یہ خدشہ ہے کہ یوپی آئی پر اضافی چارجز لگانے کا فیصلہ براہ راست تاجروں کو مالی طور پر متاثر کرے گا۔ان کے کاروبار اور لین دین کے طریقے دونوںمیں بہت زیادہ پریشانی آئےگی۔ تاجروں کی تنظیم کے مطابق اس سے گاہکوں سے تنازعات بھی بڑھ سکتے ہیں۔