Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش میں حکومت مخالف احتجاج شدید ، اپوزیشن لیڈرفخر الاسلام عالمگیر گرفتار

Updated: November 01, 2023, 10:00 AM IST | Agency | Dhaka

وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان دوسرے روز بھی جھڑپیں، بی این پی کے سینئر لیڈروں کے گھروں پر چھاپے۔

A bus set on fire by protesters in Banglades. Photo: INN
بنگلہ دیش میں مظاہرین کے ہاتھوں نذ ر آتش کی گئی ایک بس۔ تصویر:آئی این این

بنگلہ دیش میں شدید ہوتے ہوئے حکومت مخالف احتجاج  کے درمیان اپوزیشن لیڈر مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو گرفتار کرلیا گیا۔ آئندہ انتخابات سے قبل وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان دوسرے روز بھی جھڑپیں جاری رہیں۔  پیرکو ہوئے احتجاج اور تشدد میں کشورگنج ضلع میں ۲؍ افراد کی اموات کی اطلاعات ہیں۔ بین الاقوامی خبررساں ذرائع کے مطابق پولیس نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر  لیڈروںکے گھروں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا، پارٹی کے ترجمان ظہیر الدین نے کہا کہ گزشتہ ہفتے تقریباً۳؍ ہزار پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
 ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کمشنر حبیب الرحمٰن نے کہا کہ بی این پی لیڈر مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو تفتیش کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر سے گزشتہ روز ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی جس کے دوران ایک پولیس افسر اور مظاہرین میں شریک ایک شخص بھی ہلاک ہوگیا تھا اور تقریباً۲۶؍ پولیس ایمبولینس کو نذر آتش کردیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا۔
 بی این پی کی چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کے بعد سے پارٹی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کا بیٹا جلاوطنی اختیار کرکے برطانیہ چلا گیا ہے۔
 خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے الزامات میں سزا سنائے جانے کے بعد نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ اُن کی پارٹی کئی مہینوں سے سراپا احتجاج ہے۔ وزیر داخلہ اسد الزماں خان نے کہا کہ پُرتشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام سیاسی انتشار اور مہنگائی سے پریشان ہیں۔بی این پی اور سب سے بڑی مذہبی جماعت ’جماعت اسلامی‘ کی جانب سے سنیچر کو کیا گیا  مظاہرہ رواں برس ہونے والے بڑے مظاہروں میں سے ایک تھا جو کہ جنوری کے اختتام سے قبل عام انتخابات کے انعقاد کے پیش نظر اُن کی انتخابی مہم کے نئے مرحلے کے آغاز کی نشاندہی ہے۔ دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے ایک لاکھ سے زائد حامیوں نے سنیچر کو وزیر اعظم حسینہ واجد سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تاکہ غیر جانبدار حکومت کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوسکیں۔ پولیس مظاہرین پر قابو پانے کیلئے ربر بلٹ استعمال کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK