Updated: May 20, 2026, 1:58 PM IST
| London
گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ، کنیڈا، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور ناروے سمیت کئی مغربی ممالک میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے متعدد مہلک حملے سامنے آئے۔ مساجد، اسلامی مراکز اور مسلم خاندانوں پر کیے گئے ان حملوں نے بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، سفید فام بالادستی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کے خطرات پر عالمی تشویش میں اضافہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، سیاسی پولرائزیشن اور مسلم مخالف بیانیے نے کئی حملہ آوروں کو شدت پسند نظریات کی طرف دھکیلا۔
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور دائیں بازو کی انتہا پسندی کے درمیان گزشتہ دس برسوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے متعدد مہلک حملوں نے عالمی سطح پر خوف اور تشویش پیدا کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ماہرین کے مطابق ان حملوں میں ایک واضح رجحان سامنے آیا ہے، جہاں سفید فام بالادستی، مسلم مخالف پروپیگنڈے اور آن لائن شدت پسندی نے حملہ آوروں کو متاثر کیا۔
سان ڈیاگو، امریکہ (۲۰۲۶ء)
تازہ ترین واقعہ سان ڈیاگو میں پیش آیا جہاں پیر کو ایک اسلامی مرکز میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیکوریٹی گارڈ سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق دو مشتبہ افراد بعد میں خود کو گولی مار کر ہلاک ہو گئے۔ ابتدائی تحقیقات میں حملے کے ممکنہ نفرت انگیز محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ایران آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبل بچھانے کی فیس وصول کرے گا
اونٹاریو ٹرک حملہ، کنیڈا (۲۰۲۱ء)
جون ۲۰۲۱ء میں لندن میں ایک مسلمان خاندان شام کی سیر کے دوران ٹرک حملے کا نشانہ بنا۔ چار افراد ہلاک جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا۔ حملہ آور نیتھنیل ویلٹ مین کو دہشت گردی سے متاثر قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق وہ سفید فام قوم پرست نظریات سے متاثر تھا۔
بیرم مسجد حملہ، ناروے (۲۰۱۹ء)
اگست ۲۰۱۹ء میں اوسلو کے قریب النور اسلامک سینٹر پر حملہ کیا گیا۔ حملہ آور فلپ مینشاس بھاری ہتھیاروں سے لیس تھا لیکن ایک نمازی نے اسے قابو کر لیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سفید فام بالادستی کے نظریات اور کرائسٹ چرچ حملے سے متاثر تھا۔
یہ بھی پڑھئے : ایران کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی ٹیم کا اہم اجلاس
کرائسٹ چرچ مسجد حملہ، نیوزی لینڈ (۲۰۱۹ء)
کرائسٹ چرچ مسجد شوٹنگ کو جدید تاریخ کے بدترین مسلم مخالف حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مارچ ۲۰۱۹ء میں برینٹن ٹیرنٹ نے دو مساجد پر جمعہ کی نماز کے دوران حملہ کیا، جس میں ۵۱؍ افراد ہلاک ہوئے۔ حملے کو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر بھی کیا گیا۔ حملہ آور کو بغیر پیرول عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
فنسبری پارک مسجد حملہ، برطانیہ (۲۰۱۷ء)
جون ۲۰۱۷ء میں Finsbury Park Mosque کے باہر رمضان کی نماز کے بعد نمازیوں پر وین چڑھا دی گئی۔ ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ حملہ آور ڈیرن اوسبورن مسلم مخالف مواد سے متاثر تھا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
کیوبیک سٹی مسجد حملہ، کنیڈا (۲۰۱۷ء)
جنوری ۲۰۱۷ء میں Islamic Cultural Centre of Quebec City میں شام کی نماز کے دوران فائرنگ کی گئی، جس میں چھ نمازی جاں بحق ہوئے۔ حملہ آور الیگزینڈر بیسونیٹ نے قتل کے الزامات قبول کیے۔
نیویارک میں امام کا قتل، امریکہ (۲۰۱۶ء)
نیویارک شہر میں امام مولاما اکونجی اور ان کے معاون کو مسجد سے واپسی پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ حملہ آور آسکر موریل کو بغیر پیرول عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھئے : امریکہ اور ایران کی جنگ میں کسےفتح ملی اور کسے شکست ہوئی ؟دونوں کے اپنے اپنے دعوے
چیپل ہل شوٹنگ، امریکہ (۲۰۱۵ء)
فروری ۲۰۲۵ء میں چیپل ہل میں تین مسلم طلبہ — دیہہ برکات، یاسر ابو صالحہ اور رزان ابو صالحہ — کو ان کے اپارٹمنٹ میں قتل کر دیا گیا۔ اگرچہ ملزم نے پارکنگ تنازعے کا دعویٰ کیا، متاثرین کے اہل خانہ نے اسے نفرت پر مبنی جرم قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے مغربی معاشروں میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا، آن لائن انتہا پسندی اور سیاسی نفرت انگیز بیانیے کے خطرات کو بے نقاب کیا ہے۔ کئی حکومتوں نے مساجد کی سیکوریٹی بڑھانے اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت قوانین متعارف کرانے کا اعلان کیا، تاہم مسلم کمیونٹیز اب بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔