Inquilab Logo Happiest Places to Work

عید الاضحی کے دن مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ۴۶؍ واقعات : اے پی سی آر

Updated: June 07, 2026, 6:28 PM IST | New Delhi

شہری حقوق کی تنظیم (اے پی سی آر) کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے تشدد، دھمکیوں، نفرت انگیز تقاریر اور ہراسانی کے۴۶؍ واقعات دستاویز کیے ہیں، ساتھ ہی عید الاضحیٰ کے موقع پر فرقہ وارانہ مخاصمت میں تیزی سے اضافے کا الزام عائد کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

شہری حقوق کی تنظیم (اے پی سی آر) کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے تشدد، دھمکیوں، نفرت انگیز تقاریر اور ہراسانی کے۴۶؍ واقعات دستاویز کیے ہیں، رپورٹ کے مطابق، ۴۶؍ میں سے۳۰؍ واقعات کا براہِ راست تعلق عید الاضحیٰ سے تھا، جہاں مسلمانوں کو قربانی، مویشیوں کی نقل و حمل اور عید کی نمازوں سے متعلق پابندیوں، دھمکیوں، نگرانی، احتجاج اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تنظیم نے کہا کہ واقعات کا انداز تہوار کے دوران مسلمانوں کی مذہبی رسومات پر عمل پیرا ہونے کے حوالے سے دھمکی آمیز ماحول کی طرف اشارہ کرتا ہے۔رپورٹ میں ہراسانی اور دھمکیوں کے ۳۲؍ واقعات، نفرت انگیز تقریر کے چھ ، تین جسمانی حملے، تین املاک پر حملے اور دو واقعات درج کیے گئے جن کے نتیجے میں اموات ہوئیں۔

یہ بھی پڑھئے: سی بی ایس ای میں بے ضابطگیاں دھرمیندر پردھان کی نااہلی کاثبوت ہیں: کانگریس

بعد ازاں تنظیم نے نوٹ کیا کہ یہ سلسلہ۱۱؍ مئی کو شروع ہوا جب بجرنگ دل کے اراکین نے مبینہ طور پر حیدرآباد میں بکرا عید سے قبل مویشیوں کی نقل و حمل کے شبے میں گاڑیاں روکیں۔یہ واقعات متعدد ریاستوں میں۲۹؍ مئی تک جاری رہے، جبکہ میرٹھ میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی رہائش گاہ کے باہر گوشت رکھا اور عید سے متعلق قربانی سے جوڑ کر فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کی کوشش میں مقدمہ درج کرا دیا۔اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عید سے متعلق۲۲؍ واقعات پانچ دنوں میں، ۲۵؍ مئی سے۲۹؍ مئی تک، تہوار کے دوران پیش آئے۔ اے پی سی آر کے مطابق، اس عرصے کے دوران تین مسلمانوں کی جان چلی گئی۔گجرات میں مبینہ طور پر گائے کے ذبیحہ کے الزام میں حراستی تشدد کے بعد ایک مسلمان شخص کی موت ہوگئی، جبکہ آسام میں مویشیوں کی چوری کے الزام میں ایک ہجوم نے دو مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت جن لوگوں سے ڈرتی ہے ان کیخلاف کارروائی شروع کر دیتی ہے‘‘

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آسام میں تشدد اس ریاست کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے مویشیوں کی اسمگلنگ کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی پر عوامی سطح پر دوبارہ زور دینے کے ایک دن بعد ہوئی۔ مزید برآں رپورٹ میں گائے کے خود ساختہ محافظوں کو ان واقعات کے دہرائے جانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس میںمتعدد مقدمات میں مویشیوں کی نقل و حمل، مویشیوں کی چوری، گائے کا ذبیحہ یا اسمگلنگ کے الزامات شامل تھے۔ جبکہ ہریانہ میں، دو مسلمانوں پر مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں حملہ کیا گیا اور انہیں گائے کا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK