• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منی پور کے راحتی کیمپوں میں ۳۰؍سے زائد اموات پر سپریم کورٹ کے سنگین سوالات

Updated: September 18, 2026, 1:48 PM IST | Agency | New Delhi

سپریم کورٹ نے منی پور کے راحتی کیمپوں میں ہونے والی ۳۰؍سے زائد اموات، بالخصوص غیرفطری اموات کے معاملے پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے منی پور کے راحتی کیمپوں میں ہونے والی ۳۰؍سے زائد اموات، بالخصوص غیرفطری اموات کے معاملے پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے غیرفطری اموات کے تمام معاملات میں ایف آئی آر درج کرنے، تحقیقات تیزی سے مکمل کرنے اور راحتی کیمپوں میں مقیم اندرونی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی حفاظت اور وقار یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی والی تین رکنی بنچ، جس میں جسٹس جوئے مالا باغچی اور جسٹس وی موہنا شامل ہیں، نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ جسٹس گیتا متل کمیٹی کی رپورٹ میں راحتی کیمپوں میں ہونے والی اموات سے متعلق معلومات فراہم کیے جانے کے باوجود اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ بنچ نے اپنے حکم میں منی پور کے چیف سکریٹری کو راحتی کیمپوں میں ہونے والی اموات، خصوصاً غیر فطری اموات کے حوالے سے تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔

یہ بھی پڑھئے:دنیا کو بڑا خطرہ: گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا سے ۱۲؍ لاکھ کروڑ ٹن برف غائب

عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ۳۴؍اموات میں سے صرف ۲۰؍ معاملات میں پوسٹ مارٹم کیوں کرایا گیا؟ عدالت نے ریاستی حکومت سے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ راحتی کیمپوں میں مقیم اندرونی طور پر بے گھر افراد کی غیر فطری موت کی صورت میں صرف ۲۰ ؍ہزار سے ۳۰؍ہزار روپے تک معاوضہ کیوں دیا گیا۔ اس معاملے میں منی پور اسٹیٹ لیگل سروسیز اتھاریٹی کو بھی الگ سے صورت حال کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے ایم ایس ایل ایس اے سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ غیرفطری موت کے تمام معاملات میں ایف آئی آر درج کی جائے اور ان مقدمات کی تحقیقات تیزی سے مکمل ہوں۔ عدالت نے راحتی کیمپوں میں رہنے والے بے گھر افراد کی سلامتی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ ہدایات جسٹس گیتا متل کمیٹی اور ایک آئی اے ایس افسر کی رپورٹ پر غور کے بعد جاری کیں۔ رپورٹس میں منی پور کے راحتی کیمپوں میں ۳۰ سے زیادہ افراد کی موت کا ذکر کیا گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK