مانخورد میں ۱۴ ؍سو خاندانوں کیخلاف کی جانے والی بے رحمانہ انہدامی کارروائی پر انسانی حقوق کمیشن کے روبرو شکایت درج۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 12:20 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
مانخورد میں ۱۴ ؍سو خاندانوں کیخلاف کی جانے والی بے رحمانہ انہدامی کارروائی پر انسانی حقوق کمیشن کے روبرو شکایت درج۔
بدھ کو ۱۴؍ سو خاندانوں پر مشتمل کچی آبادی کو بی ایم سی نے جی سی بی مشینوں، بی ایم سی کے وسیع دستہ اور پولیس فورس کے ہمراہ منہدم کر دیا تھا۔ ایک طرف متاثرہ خاندان نوٹس کےبغیر آشیانہ زمین بوس کرنے کا الزام لگارہے ہیں اور ملبہ میں اپنے بچا ہوا سامان تلاش کررہے ہیں، وہیں ۱۴؍ سو خاندانوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مہاراشٹر انسانی حقوق کمیشن کو مکتوب روانہ کیا گیاہے اور مذکورہ معاملہ میں انسانی بنیادوں پر مداخلت کرنے اور بے گھر خاندانوں کو فوری طور پر آشیانہ فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
مانخورد، گھاٹکوپر لنک روڈ کے قریب ساہتیہ رتنا انا بھاؤ ساٹھے نگر میں مہاراشٹر ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کی ۱۱؍ ایکڑزمین پر گزشتہ ۱۵؍ برس سےغیر قانونی طورپر کچی آباد ی میں رہنے والے مکینوں کو بی ایم سی انہدامی عملہ نے جی سی بی مشین اور پولیس فورس کی مدد سے جبراً بے گھر کر دیا اور ان کے آشیانوں کو زمین بوس کر دیا۔ اب مکین اور اسکول میں زیر تعلیم بچے اپنا بچا ہوا سامان اور کتابیں تلاش کررہے ہیں ۔ انہدامی کارروائی کے وقت بی ایم سی اور پولیس نے اتنا سخت رویہ اپنایا کہ مکینوں کو اپنے گھروں سے سامان بھی نکالنے کا موقع نہیں دیا گیاتھا۔ ہونے والی انہدامی کارروائی کے بعد متاثرین نم آنکھوں سے ملبہ میں کوئی اپنا چولہا، کوئی بستر، کوئی کپڑا، کوئی پانی کا ڈرم اوربچے اپنی کتابیں تلاش کررہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: گارگئی ڈیم: تعمیر شروع ہونے سے قبل ہی ۲؍ ہزار کروڑ کا اضافہ منظور
متاثرین کے بقول’’ ہم گزشتہ ۱۵؍ برس سے یہاں مقیم تھے، اس بات سے شہری انتظامیہ اچھی طرح واقف تھا۔ اس کارروائی سے قبل نہ تو انہوں نے ہمیں کوئی نوٹس دیا اور نہ ہی اتنا موقع ہی فراہم کیا کہ ہم اپنا سامان سمیٹ لیں ۔ بی ایم سی کے انہدامی عملہ اور پولیس کی بے رحمانہ کارروائی کے سبب ان کا سب کچھ ملبہ میں دفن ہوگیا۔ متاثرہ سیتا دیوی نے نامہ نگار کو بتایا کہ ’’ بی ایم سی نے نہ صرف ہمارا آشیانہ ہم سے چھین لیا ہے بلکہ ضروریات زندگی کی تمام چیزیں بھی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دی ہیں اور ہمارا سب کچھ برباد کر دیاہے۔ ‘‘ ۲۰۱۱ء سے اس کچی آبادی میں رہنے والے ۶؍ افراد پر مشتمل خاندان کے سربراہ نظر عالم جو مدرسہ میں بچوں کوقرآن کی تعلیم دیتے ہیں، نے بتایا کہ ’’ ہم یہاں ۲۰۱۱ءسےآباد ہیں ۔ نوٹس کے بغیر نہ صرف یہ ظالمانہ کارروائی کی گئی ہے بلکہ انسانی بنیادوں پر نہ تو ہمیں متبادل گھر دیا گیا اور نہ اتنا موقع دیا گیا کہ ہم اپنے سامان ہی نکال سکیں ۔ اس کارروائی سے جہاں میرا ہزاروں روپے کا سامان مٹی میں مل گیا وہیں ہزاروں روپے مالیت کے زیورات بھی اس کارروائی میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اب ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کہاں جائیں اورکس سے مدد مانگیں ؟‘‘
ملبہ کے ڈھیر میں اپنی زندگی بھر کی کمائی تلاش کرنے والی شیتلا دیوی اور سمرین شیخ کی طرح اور کئی متاثرین کے پاس اسی طرح کی ہی دردناک کہانی موجود تھی۔
وہیں انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کو پامال کرتے ہوئے کی جانے والی اس کارروائی کے خلاف مانخورد شیواجی نگر اسمبلی حلقہ کے سماجی رضا کار، ایم آئی ایم کے صدر اور پیشہ سے وکیل فیاض عالم شیخ نے مہاراشٹر انسانی حقوق کمیشن کو مکتوب روانہ کیا ہے۔
بھیجے گئے مکتوب کے ذریعہ جہاں غیر قانونی رہائشی علاقوں میں آباد مکینوں کے حق میں سنائے گئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا گیاہے، وہیں گزشتہ ۱۵؍ برس سے سرکاری زمین پر آباد جھوپڑوں میں رہنے والے مکینوں کے ساتھ کی جانے والی کارروائی کو آئین کی دفعہ ۲۱؍ کی خلاف ورزی بھی بتایا گیا ہےاور کمیشن سے مذکورہ معاملہ میں مداخلت کرنے اور متاثرین کو آشیانہ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ ایس آر اے اور دیگر اسکیموں کے تحت انہیں بحال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس بات پر بھی غور کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ اتنے برسوں سے بی ایم سی اور کلکٹر کے زیر سایہ اتنی بڑی غیر قانونی کچی آبادی کیسے بسائی گئی اور اتنے برسوں تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟