اپوزیشن کا بی ایم سی ہائوس میں گارگئی ڈیم کی تعمیر پر سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے پروجیکٹ کو ترجیح دینے کا مطالبہ مسترد۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 11:26 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
اپوزیشن کا بی ایم سی ہائوس میں گارگئی ڈیم کی تعمیر پر سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے پروجیکٹ کو ترجیح دینے کا مطالبہ مسترد۔
جمعرات کو ممبئی میں ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی) کے صدر دفتر میں ہفتہ واری ہائوس میں بجٹ سیشن کے دوران اپوزیشن کی مخالفت اور شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ’گارگئی ڈیم‘ کی تعمیر شروع ہونے سے قبل ہی اس پروجیکٹ کی لاگت میں ۲؍ ہزار کروڑ روپے کے اضافہ کو منظوری دے دی گئی۔
واضح رہے کہ گارگئی ڈیم پالگھر میں تعمیر کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس ڈیم سے ۱ء۶؍ کلو میٹر طویل سرنگ کے ذریعہ ’موڈک ساگر‘ میں پانی پہنچایا جائے گا جس سے ممبئی واسیوں کو مجموعی طور پر یومیہ ۴۴۰؍ملین لیٹر اضافی پانی ملنے کی امید ہے۔ جمعرات کو بی ایم سی میں حکمراں محاذ کے چیئرمین پربھاکر شندے نے بجٹ سیشن کے دوران بتایا کہ مجوزہ گارگئی ڈیم کی تعمیر اسی ماہ سے شروع ہونے کا امکان ہے اور اس پروجیکٹ کی لاگت میں ۲؍ ہزار کروڑ روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے ہائوس کی صدر اور میئر ریتو تائوڑے سے درخواست کی کہ اس تجویز کو منظوری دی جائے۔
تاہم اپوزیشن لیڈر شیلیش پھنسے نے کہا کہ ٹھیکیدار کو مرکزی حکومت سے ۲؍ منظوری حاصل کرنی باقی ہے جس کے بعد اس ڈیم کی تعمیر شروع کی جاسکے گی۔ انہوں نےکہا کہ اس ڈیم کی تعمیر پر تقریباً ۶؍ سال کا عرصہ درکار ہوگا جس کے بعد ممبئی واسیوں کو اس سے پانی ملنے لگے گا۔
یہ بھی پڑھئے: باندرہ میں امسال سیلابی کیفیت سے نجات ملنے کی اُمید
انہوں نے کہا کہ ممبئی واسیوں کو پانی کی فوری ضرورت ہے اس لئے منوری میں ’ڈی سیلینیشن‘ (سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے) کا پروجیکٹ اس سے کم خرچ اور کم وقت میں مکمل کیا جاسکتا ہے جس سے ۲۰۰؍ ملین لیٹر پانی یومیہ مل سکے گا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر یہ ۲۰۰؍ ملین لیٹر پانی ممبئی کے باغات کو پانی دینے، کھیل کے میدانوں، کوسٹل روڈ، سڑکوں کی تعمیر، جنوبی ممبئی میں آنے والے سیاحوں اور اس طرح کے دیگر کاموں میں استعمال کرسکیں تو شہریوں کو پینے کا پانی کافی مقدار میں دستیاب ہوسکے گا۔
کانگریس لیڈر اشرف اعظمی نے اضافی رقم کو منظوری کی تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ ۲۰۲۳ء میں پیش کیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ کیلئے پورے ۳؍ گائوں کو دیگر مقام پر منتقل کرکے انہیں متبادل رہائش وغیرہ فراہم کرنا ہے، اس کیلئے ۳؍ لاکھ سے زیادہ درخت کاٹنے پڑیں گے اور ان کی جگہ نئے درخت چندر پور میں لگائے جانے ہیں۔
ان کے مطابق محکمہ ماحولیات اور محکمہ جنگلات سے اس کی منظوری حاصل کرنی باقی ہے اور ۲۰۲۳ء سے اب تک یہ کام نہیں کیا گیا ہے۔ اب تک متذکرہ کوئی بھی کام نہیں ہوا ہے اور اس کی لاگت میں ۲؍ ہزار کروڑ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پروجیکٹ صرف پیسے کمانے کیلئے پیش کیا گیا ہے، اب بھی کوئی کام نہیں ہوگا اور چند برس بعد پھر اس کی لاگت میں اضافہ کی تجویز پیش کردی جائے گی۔ انہوں نے بھی گارگئی ڈیم پروجیکٹ پر منوری میں سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کو ترجیح دینے کی تجویز پیش کی۔