بائیکلہ اور ماہم کے سماجی کارکنان نے بائیک سے سی ایس ٹی، قلابہ، کف پریڈ سفر کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ملازمین کی دقتوں کا حوالہ دیا۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 5:01 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
بائیکلہ اور ماہم کے سماجی کارکنان نے بائیک سے سی ایس ٹی، قلابہ، کف پریڈ سفر کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ملازمین کی دقتوں کا حوالہ دیا۔
ناگپاڑہ سے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس (سی ایس ایم ٹی )کو جوڑنے والے انتہائی اہم مخدوم علی مہائمی ؒ (جے جے )فلائی اوور پر دو پہیہ گاڑیوں کی آمد و رفت حادثات کے پیش نظر بند ہے۔ اس ضمن میں بارہا مختلف سماجی اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد نے دو پہیہ گاڑیوں کو جےجےفلائی اوور سے گزرنے کی اجازت دینے کی درخواستیں کی گئی تھیں لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔ ایک بار پھر شہر کے دو سماجی کارکنان نے جےجے فلائی اوور کے نیچے ٹریفک کے مسئلہ اور بائیکلہ سےسی ایس ایم ٹی کی جانب جانے اور وہاں سے بائیکلہ کی طرف لوٹنے والوں کو ہونے والی پریشانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو پہیہ گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت دینے کی درخواست کی ہےاور ریاستی وزیر اعلیٰ، محکمہ داخلہ اور جوائنٹ کمشنر آف پولیس ٹریفک کو مکتوب روانہ کیا ہے۔
بائیکلہ اور ماہم کے رہنے والے سماجی رضا کار فرقان سانگے اور عرفان مچھی والا نےبھیجے گئے مکتوب کے ذریعہ ریاستی وزیر اعلیٰ وزیر داخلہ دیویندر فرنویس سے اپیل کی کہ جےجےفلائی اوور پر گاڑیوں کی رفتار اور ممکنہ حادثات پر قابو پانے کے تمام اقدامات کا جائزہ لے کر فلائی اوور پر موٹرسائیکلوں کی آمد و رفت کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے جےجے فلائی اوور کے نیچے جے جے جنکشن، ، بھنڈی بازار، محمد علی روڈ، چکلہ اور منیش مارکیٹ سے گزرتے وقت بے شمار ملازمت پیشہ افراد جو دو پہیہ گاڑیوں سے روزانہ سفر کرتے ہیں ، کو انتہائی دقتوں کا سامنا ہونے کا حوالہ بھی دیا۔ عرفان مچھی والا اور فرقان سانگے نے اس نمائندے کو بتایا کہ دو پہیہ گاڑیوں پر سفر کرنے والوں کو دوبارہ جےجے فلائی اوور سے گزرنے کی اجازت دینا اس لئے ضروری ہے کہ کرلا، دادر، پریل اور لال باغ سے سی ایس ایم ٹی، ڈی این روڈ، ہتاتما چوک، گیٹ وے آف انڈیا، مرین ڈرائیور، قلابہ، کف پریڈ اور منترالیہ میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں ہزاروں لاکھوں لوگ ملازمت کرتے ہیں یا کاروبار کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر موٹر بائیک سے سفر کرتے ہیں ۔ ان افراد کو جے جے فلائی اوور کے نیچے سے گزرتے وقت نہ صرف حادثہ کا خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ پل کے نیچے ٹریفک کے مسئلہ سے سفر میں دقتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ساونت واڑی کے باشندوں کا دیرینہ مطالبہ پورا، نئی ٹرین سروس
بھیجے گئے مکتوب کے ذریعہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس اور ٹریفک کے جوائنٹ پولیس کمشنر ستیہ نارائن چودھری کو یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس سے نہ صرف فلائی اوور کے نیچے ٹریفک کے مسئلہ پر قابو پایا جاسکے گا بلکہ ٹریفک کے سبب ہونے والے حادثے میں بھی کمی آئے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ جےجے فلائی اوور پر بائیک کی آمد و رفت کو دوبارہ شروع کرنے سے قبل ممکنہ حادثات سے بچنے کے لئے باقاعدہ جائزہ لیا جائے، حفاظتی اقدامات کئے جائیں ، رفتار کا تعین کیا جائے اور خلاف ورز ی کرنے والوں پر کارروائی کیلئے جدید سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں ۔
یاد رہے کہ ۱۶؍ سال قبل یکم اپریل ۲۰۱۰ء کو جےجے فلائی اوور پر۸ ؍برس میں ہونے والے حادثات میں ۳۱؍ افراد کی موت ہوئی تھی اور ۶۶؍ افراد زخمی ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں سے ملنے والی مسلسل شکایت کے بعد ہی جےجے فلائی اوور پر موٹر بائیک کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ دو پہیہ گاڑیوں کیلئے آمدورفت کی دوبارہ اجازت دینےکیلئے بھیجا گیا مکتوب ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے جوائنٹ کمشنر آف پولیس ( ٹریفک ) ستیہ نارائن چودھری نے تمام باتوں کو جائزہ لینے اور تمام مسائل اور سہولتوں پر غورو خوض کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لینے کی اطلاع دی ہے۔