• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کا بھرم توڑ دیا

Updated: September 04, 2026, 4:40 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

سپریم لیڈر کے اس عزم کی تائید ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر اور آذر بائیجان کا مشترکہ فریم ورک تیار کرنا ضروری ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بنیاد پرست اور دہشت گرد ہم معنی نہیں ہیں لیکن انہیں عموماً ایک ہی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور ایسا کرنے کی وجہ ہوتی ہے ناواقفیت۔ ایڈورڈ سعید امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی میں ادب کے تقابلی مطالعے کے شعبے کے سربراہ تھے۔ انہیں جب راجیو گاندھی میموریل لیکچر کیلئے ۱۹۹۷ء میں دہلی مدعو کیا گیا تو انہوں نے متعدد تقریبات میں شرکت کی اور کئی بنیادی باتیں کہیں۔ بی بی سی لندن کی عالمی سروس کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دُنیا میں سب سے زیادہ بنیاد پرست ملک کوئی ہے تو امریکہ ہے۔ امریکہ میں بنیاد پرست طبقہ امریکی صدر کی پالیسیوں کا تعین کرتا ہے۔ امریکہ وہ پہلا ملک ہے جس نے اکیلے ویتنام میں ۳۵؍ لاکھ انسانوں کو ہلاک کیا۔ امریکہ میں اختلاف کرنے اور آزادانہ سوچ کا جذبہ رکھنے والے لوگ سب سے زیادہ ہیں اور اس کا اندازہ دانش گاہوں، کلیساؤں اور محنت کشوں کے درمیان جا کر ہوتا ہے۔ مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کی سیاسی پالیسی قطعی ان کی ہے۔ ’نوآبادیت‘ کے خلاف عدم تشدد پر مبنی مزاحمت ان کے سیاسی فلسفے کی روح ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’ٹیکنالوجی کی سہولت کے بدلے کہیں ہم اپنی خودمختاری تو نہیں کھو رہے؟‘‘

اسی انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ فلسطینیوں کو ان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے اسی لئے یروشلم میں بھی جو ایڈورڈ سعید کی جائے پیدائش ہے انہیں طرح طرح کے توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئی دہلی میں ایک اخبار نویس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایشیائی ملکوں میں عربی ادب کی ترویج بہت معمولی ہے شاید اس لئے کہ یورپ ہم پر اس طرح سوار ہے کہ چین، جاپان اور ہندوستان کی طرف ہم راغب ہی نہیں ہوتے۔ فلسطینی انتظامیہ کی مخالفت کا جواز فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کے مخالف ہیں جس میں بدقماش لوگ بھی شامل ہیں۔

دُنیائے ادب کو Orientalism (اورینٹلزم) جیسی خیال انگیز کتاب دینے والے ایڈورڈ سعید نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر اسرائیلی ریاست کا قیام اور زایونزم (صہیونیت) کی پوری صدی یہودی باشندوں کیلئے نہ تو حالات معمول پر لاسکی نہ ہی یہودیوں میں عدم تحفظ کا احساس ختم ہوا۔ تقسیم کے سلسلے میں انہوں نے ہندوستان کا بھی ذکر کیا مگر یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی تقسیم اس کی تکمیل کا سبب بنی مگر فلسطین کی تقسیم ایسا المیہ بن گئی جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ ایڈورڈ سعید اوسلو معاہدے کے مخالف تھے اور اس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا۔ آج فلسطین و غزہ کے جو حالات ہیں اس کی بڑی وجہ ’اوسلو‘ اور اس جیسے دوسرے معاہدے بھی ہیں جن سے فلسطین کے رہنے والوں کو حاصل تو کچھ نہیں ہوا شاید بعض بڑی شخصیتوں کو غیرت کا تھوڑا بہت معاوضہ مل گیا ہو۔ ایران نے جب میزائیل کا وار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھرم توڑا تو ڈونالڈ ٹرمپ ہٹو بچو کہتے ہوئے ’پیس بورڈ‘ کے فارمولے کے ساتھ آگئے۔ آج ہمارے سامنے ایک سوال ہے کہ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ سے کیا حاصل ہوا۔ کیا غزہ کے باشندوں کو غزہ واپس ملا؟ ’’نہیں‘‘۔ ہاں امریکہ نواز حلقوں کی سبکی ضرور ہوئی۔ اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امریکہ اور اسرائیل ناقابلِ تسخیر ہیں۔ وہ دور الگ تھا جب ۳۹-۱۹۳۶ء کے دوران فلسطینی اپنی مسلسل مزاحمت سے تھک گئے تھے۔ ان میں ایک تربیت یافتہ یہودی فوج کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہ گئی تھی لہٰذا دو تہائی عرب فلسطینیوں کو پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ امریکہ نے ایرانیوں کا خوف دلا کر عربوں کو اور عربوں کا خوف دلا کر ایرانیوں کو ایک دوسرے کیخلاف استعمال کیا۔ بقول اقبال سہیل ’’گریباں کو لڑایا آستیں سے‘‘ مگر اب وہ صورتحال باقی نہیں رہی ہے۔ فلسطینیوں کو یقین ہوگیا ہے کہ ان کی فتح کا راز مسلح مزاحمت میں ہے۔ امریکہ نے ’پیس بورڈ‘ کا جھانسہ دے کر غزہ اور فلسطینیوں کی مسلح اور مسلسل مزاحمت روکنے کی کوشش کی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ مزاحمت جاری رہی تو سعودی عرب اور افغانستان بھی الگ تھلگ نہیں رہیں گے اور جب وہ جنگ میں کودیں گے تو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہی کودیں گے۔ اس وقت نتیجہ کیا ہوگا؟ اس کے جواب پر غور کرنے والے امریکہ نوازوں میں بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کیا سعودی، ترکی اور پاکستان مکہ معاہدہ میں ایران کو بھی شامل کر سکتے ہیں؟

ہندوستان کی فلسطین سے متعلق ایک پالیسی رہی ہے۔ ۲۶؍ نومبر ۱۹۳۸ء میں جب اسرائیل نام کی کوئی ریاست وجود میں نہیں آئی تھی، مہاتما گاندھی نے ’ہریجن‘ میں لکھا تھا کہ فلسطین عربوں کیلئے ویسا ہی ہے جیسا انگلینڈ انگریزوں کیلئے اور فرانس فرانسیسیوں کیلئے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے فلسطین کی تقسیم کی مخالفت کی تھی مگر بعد میں جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار داد پر ووٹنگ کا حصہ بننے سے گریز کی مثالوں کے درمیان ہندوستانی خارجہ پالیسی کے کئی روپ سامنے آئے۔ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد ۱۲؍ جون ۲۰۲۵ء تک ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان جس قسم کے رشتے استوار ہوئے ان کو ایک جملے میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات زیادہ گہرے ہوئے۔ کہنے کو تو کہہ سکتے ہیں کہ ’’ہماری ہندوستانی حکومت دو مملکتی حل کیلئے پہلے بھی مصر تھی اور اب بھی ہے۔‘‘ مگر ڈونالڈ ٹرمپ کی تجاویز اور نیتن یاہو کے انکار کے بعد جنگ کے علاوہ کون سی صورت رہ جاتی ہے جس سے فلسطین و غزہ کے لوگوں کو ان کے حقوق دلائے جاسکیں؟

جنگ خود مسئلہ ہے جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے مگر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس عزم کی بھی تائید ضروری ہے کہ دشمن کو قوی اتحاد سے شکست دیں گے۔ سپریم لیڈر کے اس عزم کی بھی تائید ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر اور آذر بائیجان کا مشترکہ فریم ورک تیار کرنا ضروری ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں اگر کچھ اضافہ کیا جاسکتا ہے تو یہ سوال کہ وہ ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں کے ایران نواز عناصر کیا کریں؟ کیا وہ مشترکہ فریم ورک کی تیاری پر رضامند ہیں؟ یہاں دو باتوں کی طرف خاص طور سے توجہ دلانا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ ترکی میں سعودی عرب اور پاکستان کے وزراء خارجہ اور وزراء دفاع کی میٹنگ ہو رہی ہے۔ دوئم یہ کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اس تلقین کے باوجود کہ مسلمانوں کے درمیان تقسیم ان کے مخالفین کو فائدہ پہنچاتی ہے ایران نواز عناصر میں ایسے لوگ سرگرم ہیں جو اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ لوگ بھی امریکہ اور اسرائیل سے کم خطرناک نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK