رما بائی کی روداد آپ نے اس اخبار میں پڑھی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر خوب پھیلی۔ صارفین نے رَما بائی کو جذبہ و عمل کی عظیم مثال قرار دیا۔ میراتھن کے شرکاء سادا ، ڈھیلا ڈھالا اور آرام دہ لباس پہنتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 5:02 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
رما بائی کی روداد آپ نے اس اخبار میں پڑھی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر خوب پھیلی۔ صارفین نے رَما بائی کو جذبہ و عمل کی عظیم مثال قرار دیا۔ میراتھن کے شرکاء سادا ، ڈھیلا ڈھالا اور آرام دہ لباس پہنتے ہیں۔
رما بائی کی روداد آپ نے اس اخبار میں پڑھی ہوگی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر خوب پھیلی۔ صارفین نے رَما بائی کو جذبہ و عمل کی عظیم مثال قرار دیا۔ میراتھن کے شرکاء سادا ، ڈھیلا ڈھالا اور آرام دہ لباس پہنتے ہیں۔ علاوہ ازیں چونکہ دوڑنا ہوتا ہے اس لئے وہ اسپورٹس شو کو ترجیح دیتے ہیں۔ ۴۷؍ سالہ رما بائی ٹریک سوٹ نہیں ساڑی پہنے ہوئے تھی جس میں دوڑ پانا ہی مشکل ہوتا ہے تو مقابلہ میں شریک ہونا اور پھر جیتنا کتنا بڑا کارنامہ ہے اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ بات صرف ساڑی کی نہیں۔ اُس کے پاس اسپورٹس شو بھی نہیں تھے۔ وہ معمولی چپل پہنے ہوئی تھی۔ مقابلہ شروع ہونے کے بعد جب وہ دوڑنے لگی اور چپل بار بار اُتر جاتی تھی تب اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، چپل اُتار کر ہاتھوں میں پکڑ لی اور دوڑنے لگی۔ اپنی بیٹی کی پڑھائی کیلئے بہر طور تین ہزار روپے کا انعام جیتنے کا جذبہ اُس پر حاوی تھا۔ اس جذبے نے بالآخر اُسے کامیابی دلائی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ایسی خاتون جو پیشہ جاتی دوڑ میں ماہر نہیں ہے، فاتح قرار پائے گی۔ مگر یہ ہوا اور امبا جوگئی (ضلع بیڑ، مہاراشٹر) کی اس خاتون نے ملک و بیرون ملک اپنے فولادی عزم اور جذبے کو منوالیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’کیا بولتی سی جے پی؟‘
آج کل چھوٹی سی فیملی کے ساتھ، بہت اعلیٰ نہیں مگر قاعدہ کے کسی ریستوراں میں کھانے کیلئے جائیے تو تین تا پانچ ہزار روپے آسانی سے خرچ ہوجاتے ہیں۔ فیملی کے ساتھ کھانے کیلئے جانا اگر مکمل تفریح نہیں تو نیم تفریح ضرور ہے۔ اس میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔ گھر کے افراد کو کبھی کبھی اس کا موقع نکالنا چاہئے مگر سوچئے کہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لوگوں کو بھی تین تا پانچ ہزار روپے خرچ کرنے میں پس و پیش نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف، اِس ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس بچوں کی پڑھائی لکھائی پر خرچ کرنے کیلئے چند ہزار بھی نہیں ہیں۔ رما بائی کے پاس چند ہزار ہوتے تو ممکن تھا کہ وہ میراتھن کہلانے والے دوڑ کے مقابلے میں حصہ نہ لیتی۔
یہ بھی پڑھئے: ۷ء۸؍ فیصد جی ڈی پی
ہمارا خیال ہے کہ ہر اُس خاندان پر جو باہر کھانے، آؤٹنگ، کچھ ضروری اور کچھ کم ضروری شاپنگ، ٹریول، برتھ ڈے وغیرہ پر ہزاروں روپے ایک جھٹکے میں خرچ کردیتا ہے، رما بائی جیسوں کا حق ہے۔ کس شہر میں کتنی ’’رما بائیاں‘‘ ہیں ہم نہیں جانتے مگر جاننے کی کوشش کی جائے تو معلومات کرنا ایسا مشکل بھی نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے علاقے کی کسی رَما بائی کو نہیں جانتے تو کیا امباجوگئی کی رَما بائی کے بارے میں جان لینے کے بعد ہم نے اُس تک پہنچنے کی کوشش کی؟ وہ قوم جس کے پاس یہ علم ہے کہ لینے والے ہاتھ سے دینے والا ہاتھ بہتر ہے یا اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے یا جسے سکھایا گیا ہے کہ تم پر غریبوں، ناداروں اور مفلسوں کا حق ہے تو کیا اُسے ایسے ہر معاملے میں پیش پیش نہیں رہنا چاہئے؟
بلاشبہ، قوم میں صاحبانِ خیر کم نہیں مگر موجودہ دَور کا تقاضا ہے کہ آپ جس کو مستحق سمجھتے ہیں اُسے تو دیں مگر اُس کو بھی دیں جس کو دینے سے بحیثیت قوم آپ کیلئے لوگوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا ہوتا ہو نیز وہاں بھی دیں جہاںفلاح عام کا مقصد دیکھ کر متعدد فرقوں کے لوگ دیتے ہیں مگر اُن کی توجہ نہیں جاتی جو ہر جمعہ کو ایسے گدا گروں کو بھی نواز دیتے ہیں جن کا چہرا اُن کے منشیات کا عادی ہونے کی گواہی دیتا ہے۔