کلیان پھاٹا طویل عرصے سے بدترین ٹریفک جام کا شکار رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے نیا سگنل سسٹم نصب کیا گیا۔ بدھ کی صبح شیو سینا (شندے) کے مقامی رکن اسمبلی راجیش مورے اور سابق کارپوریٹر باباجی پاٹل نے باضابطہ طور پر اس سگنل کا افتتاح کیا۔ تاہم اس تقریب میں بی جے پی کے مقامی نمائندوں اور عہدیداران کو نظر انداز کرتے ہوئے مدعو ہی نہیں کیا گیا۔
شندے سینا کےلیڈر اور کارکن فیتہ کاٹتے ہوئے اوربی جےپی کےلیڈر اور کارکن فیتہ کاٹتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے اقتدار سے مہاراشٹر نونرمان سینا (منسے) کو باہر کرنے کے بی جے پی کے مطالبے نے پہلے ہی ماحول کو کشیدہ کر رکھا تھا مگر بدھ کو کلیان پھاٹا پر نئے ٹریفک سگنل کے افتتاح کے تناظر میں جو کچھ ہوا، اس نے مہایوتی کے اختلافات کو چوراہے پر لا دیا۔ ایک ہی سگنل کا ایک ہی دن میں دو الگ الگ پارٹیوں کی جانب سے افتتاح کئے جانے کے واقعے نے سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کلیان پھاٹا طویل عرصے سے بدترین ٹریفک جام کا شکار رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے نیا سگنل سسٹم نصب کیا گیا۔ بدھ کی صبح شیو سینا (شندے) کے مقامی رکن اسمبلی راجیش مورے اور سابق کارپوریٹر باباجی پاٹل نے باضابطہ طور پر اس سگنل کا افتتاح کیا۔ تاہم اس تقریب میں بی جے پی کے مقامی نمائندوں اور عہدیداران کو نظر انداز کرتے ہوئے مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ یہ بات بی جے پی کی مقامی قیادت کو ناگوار گزری اور اس کے ردعمل میں بی جے پی نے اسی شام جائے وقوع پر پہنچ کر باقاعدہ طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی سگنل کا دوبارہ افتتاح کر ڈالا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر سے متعلق رہنمائی کیلئے مدنپورہ میں ہیلپ ڈیسک قائم
بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی سبھاش بھوئر، خاتون کارپوریٹر ویدیکا پاٹل اور دیوا شہر منڈل کے صدر سچن بھوئر نے فیتہ کاٹ کر اس سگنل وار کو نیا موڑ دیا۔
اس موقع پر بی جے پی لیڈروں نے شیو سینا پر سخت تنقید کی۔ بی جے پی کارپوریٹر ویدیکا پاٹل نے رکن اسمبلی راجیش مورے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ محض شیو سینا کے نہیں بلکہ پوری مہایوتی کے ایم ایل اے ہیں ، اس لئے انہیں تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سگنل کی تنصیب ان کی مسلسل کاوشوں اور پیروی کا نتیجہ تھی مگر افتتاح کے موقع پر انہیں ہی مدعو نہ کرکے کریڈٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب بی جے پی منڈل صدر سچن بھوئر نے بھی شیو سینا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جن کا اس منصوبے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ سب سے زیادہ پرجوش نظر آئے اور یہاں بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی صورتحال بنی رہی۔ شہر میں ٹریفک جام کو حل کرنے کے لئے لگائے گئے اس سگنل نے خود مہایوتی اتحاد کی صفوں میں سیاسی تعطل پیدا کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ تنظیمی سطح پر دونوں حلیف پارٹیوں کی یہ تلخیاں اور کریڈٹ لینے کی رسہ کشی اس بات کا ثبوت ہے کہ اتحاد کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اب سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے کہ کلیان گرامین کے اس سیاسی چوراہے پر مہایوتی کی گاڑی کے لئے سگنل سبز ہے یا سرخ؟