Updated: September 04, 2026, 5:04 PM IST
| New Delhi
پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے ساتھ اشاعتی معاہدہ ختم ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد سونیا گاندھی کی سیاسی یادداشتوں کی کتاب ’Belonging: A Journey of Love‘ کو ہارپرکولنز انڈیا نے شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کتاب ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو ہندوستان میں جاری کی جائے گی۔ اس سے قبل کتاب کے بعض حصوں میں مجوزہ ادارت اور حذف کے معاملے پر سونیا گاندھی اور پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔
سونیا گاندھی، ان کی کتاب بلونگنگ: اے جرنی آف لَو۔ تصویر: آئی این این
پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا اور کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی کے درمیان ان کی کتاب شائع کرنے کا معاہدہ ختم ہونے کے تقریباً ایک ہفتے بعد ہارپرکولنز انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ سونیا گاندھی کی کتاب ’Belonging: A Journey of Love‘ شائع کرے گا۔ ناشر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ یہ کتاب ہندوستان میں ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو شائع کی جائے گی۔ پوسٹ میں کتاب کو ’’ہمارے عہد کی سب سے زیادہ متوقع سیاسی یادداشتوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ Belonging محبت، شناخت، فرض اور تعلق کی ایک ڈرامائی اور انتہائی ذاتی داستان ہے، جو ہندوستان کے سفر کا ایک نایاب اندرونی نقطۂ نظر بھی پیش کرتی ہے۔ دی انڈین ایکسپریس نے سب سے پہلے خبر دی تھی کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے سونیا گاندھی کی کتاب شائع کرنے کا فیصلہ ترک کردیا ہے، کیونکہ سونیا گاندھی نے ناشر کی جانب سے تجویز کردہ بعض ’’ادارتی تبدیلیوں اور حذف‘‘ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: مسلم صحافیوں پر مبینہ تشدد، صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کی شدید مذمت کی
ایکسپریس کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ہارپرکولنز کتاب کو ہندوستان میں شائع اور تقسیم کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد ہندوستانی ناشرین کتاب کے ایجنٹ ڈیوڈ گوڈون سے رابطے میں تھے، تاہم انہیں بتایا گیا کہ دو ہفتے سے زائد قبل ہارپرکولنز کے ساتھ معاہدہ حتمی ہوچکا ہے۔ اس سے قبل امریکہ میں قائم الفریڈ اے نوف، جو پینگوئن رینڈم ہاؤس کا ایک ڈویژن ہے، نے کتاب کی اشاعت کی تاریخ ۱۰؍ نومبر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نوف کے مطابق کتاب کی پہلی اشاعت کیلئے ایک لاکھ کاپیاں چھاپنے کا منصوبہ تھا۔ واضح ہو کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا اور سونیا گاندھی کے درمیان اشاعت کا معاہدہ کم از کم دو ماہ تک جاری رہنے والی طویل ’’بات چیت‘‘ کے بعد ختم ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل بتایا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ بات چیت ’’خوشگوار‘‘ رہی، تاہم اختتام کے قریب صورتحال ’’کشیدہ‘‘ ہوگئی۔ جن حصوں پر اعتراض کیا گیا، ان میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ۱۲؍ سالہ حکمرانی کے حوالے، آر ایس ایس کا کردار، فرقہ وارانہ تقسیم اور فسادات کے واقعات، اور اقلیتوں کی صورتحال سے متعلق تذکرے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل جیمینائی کئی ممالک میں رکاوٹ کا شکار، دھیمی رفتار، اور غلط جوابات کی شکایت
سونیا گاندھی کی جانب سے مذاکرات میں راجیو گاندھی کے ایک سابق معاون کی اہلیہ اور خاندان کی ایک قریبی دوست نمائندگی کر رہی تھیں، جبکہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کی جانب سے کم از کم تین ایڈیٹرز، جن میں کنسلٹنٹس بھی شامل تھے، اس عمل کا حصہ تھے۔ ذرائع کے مطابق مصنفہ کی جانب سے دو اہم نکات پر اعتراض اٹھایا گیا۔ پہلا یہ کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے وکلا ضرورت سے زیادہ حساس رویہ اختیار کر رہے تھے، جبکہ دوسرا یہ کہ ناشر کی جانب سے تجویز کردہ ’’متعدد‘‘ ترامیم اور حذف، جن میں وزیراعظم نریندر مودی کے تذکرے، گلوان میں ہندوستان اور چین کے درمیان کشیدگی جیسے حالیہ واقعات، فرقہ وارانہ کشیدگی اور اقلیتوں کی صورتحال شامل تھی، کتاب کے عالمی اور ہندوستانی ایڈیشنز کے درمیان نمایاں فرق پیدا کردیں گے۔ ایک ذریعے نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہندوستانی قارئین کو عالمی سطح پر شائع ہونے والے متن اور ہندوستان میں شائع ہونے والے ایڈیشن کا تقابلی جائزہ لینا پڑتا تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کتاب میں کیا کچھ تبدیل یا حذف کیا گیا ہے۔