Updated: March 21, 2026, 3:11 PM IST
| New Delhi
مودی حکومت اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان بار بار تنازعہ بننے والا مسئلہ، یعنی ریاستی ایپس کی پری انسٹالیشن، میں آدھار کی درخواست بھی شامل ہےجو چھ تجاویز میں سے ایک ہے جس کی مخالفت ہندوستانی آئی ٹی انڈسٹری کے ادارے ایم اے آئی ٹی نے خطوط کے مطابق کی ہے۔
آدھار۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کی حکومت نے جنوری میں نجی طور پر یہ تجویز پیش کی تھی کہ ایپل، سیمسنگ اور گوگل جیسی کمپنیاں اپنے فونز پر بایومیٹرک شناختی ایپ آدھار کو پری انسٹال کرنے پر غور کریں۔ اس تجویز کی مخالفت اس گروپ نے کی جو اسمارٹ فون کی بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ریاستی ایپس کی پری انسٹالیشن کے مسئلے پر تنازعہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان بار بار سامنے آتا رہا ہے اور آدھار کی درخواست وہ چھ تجاویز میں سے ایک ہے جس کی ایم اے آئی ٹی نے مخالفت کی ہے۔
آدھار ایک منفرد ۱۲؍ ہندسوں پر مشتمل شناختی نمبر ہے جو کسی فرد کی فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین سے جڑا ہوتا ہے، اور تقریباً۳۴ء۱؍ ارب رہائشیوں کے پاس موجود ہے۔ یہ بینکنگ اور ٹیلی کام خدمات میں تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، نیز ایئرپورٹ پر تیز انٹری کے لیے بھی مددگار ہے۔ اگرچہ حکومت کہتی ہے کہ یہ نظام محفوظ ہے، پرائیویسی کے حامیوں نے اس پر مسلسل تنقید کی ہے، بشمول ڈیٹا لیکس کے، جن میں لاکھوں صارفین کی ذاتی تفصیلات ڈارک ویب پر سامنے آئیں۔
کمپنیوں نے آدھار درخواست کی مخالفت کی
ایم اے آئی ٹی کی۱۳؍ جنوری کی ایک داخلی ای میل کے مطابق، حکومت کے آدھار ادارے یو آئی ڈی اے آئی نے جنوری میں آئی ٹی وزارت سے کہا کہ گوگل، ایپل، اور بڑی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کریں تاکہ نئی آدھار ایپ کو پری انسٹال کرنے کا امکان دیکھا جا سکے۔ یہ درخواست براہِ راست حکم نہیں تھی، لیکن کمپنیوں نے اس کی مخالفت کی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ پری انسٹالیشن سے پیداواری اخراجات بڑھیں گے اور صارفین کے لیے فنکشنل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امیزون پرائم کے ۲۰۲۶ء کے بڑے شوز کی فہرست جاری
خاص طور پر ایپل اور سیمسنگ کو اس تجویز پر تحفظات تھے، بنیادی طور پر حفاظتی اور سیکوریٹی کے مسائل کی وجہ سے، دو صنعتی ذرائع نے بتایا۔ کمپنیوں نے رویٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔یو آئی ڈی اے آئیکے خیال میں پری انسٹالیشن شہریوں کو ’’ضروری آدھار فیچرز تک آسان رسائی فراہم کرے گی بغیر الگ ڈاؤن لوڈ کی ضرورت کے اور’’اس کی رسائی اور دستیابی میں اضافہ کرے گی۔یہ بات ایم اے آئی ٹی نے جنوری میں اپنے اراکین کو بھیجے گئے ای میل میں کہی ہے۔تنظیم کی رکن کمپنیاں اس خیال میں تھیں کہ پری انسٹالیشن عوامی بھلائی کو بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنے گا اور اس طرح کے احکامات کمپنیوں کو ہندوستان اور برآمدی مارکیٹ کے لیے الگ پیداوار لائنیں قائم کرنے پر مجبور کریں گے، جنوری کے ایک دستاویز میں یہ بات درج ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ روس کے علاوہ کسی اور ملک میں موبائل فون پر حکومتی ایپس کی پری انسٹالیشن لازمی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا:فلسطین کے خلاف ’امتیازی سلوک‘ پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد
جنوری میں لانچ کی گئی نئی آدھار ایپ صارفین کو اپنی ذاتی تفصیلات اپ ڈیٹ کرنے، اپنے خاندان کے افراد کے پروفائلز منظم کرنے، اور بایومیٹرک تفصیلات کو غلط استعمال سے بچانے کے لیے لاک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔پری انسٹالیشن کی تجویز یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت فون کے استعمال پر ابتدا سے زیادہ کنٹرول چاہتی ہے ۔