• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاست میں خشک سالی کا اثر ممبئی کی پانی سپلائی پر ہونے کا اندیشہ

Updated: October 08, 2026, 2:52 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

میئر اورکارپوریٹروں نے جھیلوں کا جائزہ لیا۔ حکومت بھاتسا جھیل سے اپنے حصہ کا جو پانی ممبئی کو دیتی ہے، وہ کسانوں کو دیا جاسکتا ہے۔

Mumbai Mayor Ritu Tawde and members of the BMC Standing Committee speaking to the media after visiting Modak Sagar Lake. Photo: Inquilab.
ممبئی کی میئرریتوتاؤڑے اور بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبران مودک ساگر جھیل کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بدھ کو ان چند جھیلوں پر جاکر دستیاب پانی اور حالات کا جائزہ لیا جن سے ممبئی کو پانی سپلائی ہوتا ہے اور اس دورہ میں ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے نے بیان دیا کہ چونکہ مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں خشک سالی کا اعلان کیا گیا ہے اس لئے ضرورت کے وقت بھاتسا جھیل سے جو پانی ممبئی  کے شہریوں کو  ملتا ہے،  وہ شاید خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کو بھیج دیا جائے۔ اس صورتحال میں ہوسکتا ہے کہ ممبئی میں جاری ۱۰؍فیصد پانی کٹوتی پورے سال جاری رہے ۔ تاہم اس کا حتمی فیصلہ ریاستی حکومت سے صلاح و مشورہ کے بعد کیا جائے گا۔

بی ایم سی کے ایک افسر نے بدھ کو اس نمائندے کو بتایا کہ ممبئی کو پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں جتنا پانی فی الوقت دستیاب ہے،  اگر۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی کے ساتھ اسے سپلائی کیا جائے تو۲۱؍ جون تک پانی سپلائی کیا جاسکتا ہے اور اگر پانی کٹوتی نہ کی جائے تو یہی پا نی ۲۰؍ مئی تک چلے گا۔ ایسے حالات میں بی ایم سی ریاستی حکومت سے اس کے حصے کا پانی لیتی ہے جس کی اسے قیمت ادا کرنی ہوتی ہے۔ اگر ریاستی حکومت امسال اپنے حصے سے بی ایم سی کو پانی دیتی ہے تو موجودہ سطح کے ساتھ کٹوتی کے بغیر ۱۵؍ جون تک پانی سپلائی کیا جاسکتا ہے اور۱۰؍ فیصد کٹوتی کے ساتھ۲۱؍ جولائی تک پانی سپلائی کیا جاسکے گا۔ تاہم خشک سالی کے سبب اب تک یہ بات صاف نہیں ہوسکی ہے کہ ریاستی حکومت بی ایم سی کو پانی دے گی یا نہیں یا کتنا پانی دے گی اس لئے اب تک پانی کٹوتی ختم کرنے یا کم کرنے کے تعلق سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی کے عازمین کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرانے کا عمل آخری مرحلے میں

جھیلوں کا جائزہ لینے کے دوران اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین پربھاکر شندے نے کہا کہ موجودہ حالات میں سوئمنگ پولوں میں پانی سپلائی جاری رکھنے کے تعلق سے بھی فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ بی ایم سی   نے کارپوریٹروں سے مشورہ کئے بغیر انہیں پانی سپلائی بحال کردی ہے۔ ریتو تاؤڑے نے کہا کہ ممبئی میں فی الوقت تقریباً ۲۲۰۰؍ تعمیراتی پروجیکٹ جاری ہیں اور انہیں بھی پانی سپلائی کیا جاتا ہے لیکن ممبئی واسیوں کو اگر پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تو تعمیراتی جگہوںپر پانی روک کر شہریوں کو پینے کا پانی سپلائی کو فوقیت دی جائے گی۔

کانگریس کے ہاؤس لیڈر اشرف اعظمی نے کہا کہ ’’مودک ساگر میں۷۰؍ فیصد پانی دستیاب ہے جو معمول سے کافی کم ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں خشک سالی ہے اس لئے قوی امکان ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں بڑی تعداد میں متاثرہ علاقوں سے لوگ ہجرت کرکے ممبئی آجائیں جس کی وجہ سے خود ممبئی میں پانی کی مانگ بڑھ جائے گی۔ ان حالات کے پیش نظر شہریوں کو سنبھال کر پانی استعمال کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹر ڈاکٹر سعیدہ خان نے کہا کہ احتیاط سے پانی استعمال کرنے سے کام چل جائے گا۔ تاہم چونکہ مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں خشک سالی ہے اس لئے ممبئی شہرومضافات کے حالات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا  جارہا ہے۔

ایم آئی ایم کے کارپوریٹر ضمیر قریشی نے کہا کہ ممبئی کی جھیلوں کی حالت ابھی ایسی ہے جیسی ۱۰-۲۰۰۹ء  میں تھی اور یہاں پانی کی قلت ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود ممبئی کے پاس پانی ہے اور اگر ماضی کی طرح خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں ٹرینوں وغیرہ کے ذریعہ پانی بھیجنے کی نوبت آتی ہے یا آئندہ سال بھی ایل نینو کے اثر سے نا کافی بارش   ہوتی ہے تو مسئلہ ہوسکتا ہے اس لئے شہریوں کو پانی بہت احتیاط کے ساتھ  استعمال کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK