پریس کلب میں ۵؍ تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ۶؍ اہم مطالبات کئے گئے۔ کہا: ایس آئی آر کی آڑ میں حذف کئے گئے تمام ناموں کوووٹرلسٹ میں شامل کیا جائے۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 2:46 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
پریس کلب میں ۵؍ تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ۶؍ اہم مطالبات کئے گئے۔ کہا: ایس آئی آر کی آڑ میں حذف کئے گئے تمام ناموں کوووٹرلسٹ میں شامل کیا جائے۔
جمہوری حقوق، انتخابی طریقہ کار، احتساب اور جمہوری نظام میں شفافیت سے متعلق خدشات اور کی گئی دھاندلی کو اجاگر کرنے کے لئے ’ایس آئی آر رَد کرو، گیانیش کمار استعفیٰ دو اور ووٹ کے حق کا تحفظ‘ عنوان پربدھ کو پریس کلب میں۵؍ تنظیموں کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی۔مقررین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ساتھی کمشنروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے ذمے بالغ ہونے و الے رائے دہندگان کوجمہوری نظام کا حصہ بنانا تھا مگر انہوں نے اپنے فرض منصبی سے کوتاہی نہیں ،کھلواڑ کیاہے، ان کا یہ عمل مجرمانہ ہے، انہیں اس کی سخت ترین سزاملنی ہی چاہئے اور اس بناء پر یہ سب اپنے عہدے پر فائز رہنے کا حق کھوچکے ہیں۔
ایڈوکیٹ گایتری سنگھ نے کہاکہ ’’ ایس آئی آر اسپیشل انٹیسیو رویژن نہیںبلکہ اس کی آڑ میںشہریوں کے ووٹنگ کے آئینی حق کو چھینا جارہا ہے، اسے فوراً روکا جائے۔‘‘ ڈولفی ڈیسوزا نےکہا کہ ’’ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا اوربلا تاخیر ایس آئی آر رَد کیا جائے ۔‘‘ اُلکا مہاجن نے کہا کہ ’’ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے ذریعے جس ’شدھی‘ کی بات کہی تھی دراصل اس کے ذریعے بی جے پی کو کھلا فائدہ پہنچانا تھا،یہ اب کئی طرح سےواضح ہوگیا ہے۔‘‘
مولانا محمودخان دریابادی نے کہاکہ ’’ ووٹ ایک ایسی طاقت ہے جسے کوئی نہیںچھین سکتا اور ووٹ عام شہری کا ہو یا صدر جمہوریہ اور وزیراعظم کا، سب برابر ہیں۔‘‘ ہر ویندر سنگھ خالصہ نے کہاکہ ’’ اتنے بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کے ووٹ کاٹے گئے ہیں جس کاتصور محال ہے ، آخر یہ ایس آئی آر ہے یا ووٹ کاٹنے کی الیکشن کمیشن کی مہم ۔‘‘
شاکر شیخ نے کہاکہ ’’ چیف الیکشن کمشنر نے بے اصولی اورمن مانی کی تمام حدیں پار کردیں۔ صرف مہاراشٹر میں ۲؍ کروڑ ۶؍ لاکھ ووٹرس کے نام ڈرافٹ لسٹ سے کاٹ دیئے گئے اور ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ ووٹرس کوتضاد فہرست میںشامل کیا گیا ہے،گویا اِن کے نام پربھی تلوار لٹک رہی ہے ۔ کیا یہ نام کاٹنے کی مہم تھی جس کی سازش اورپردہ اب پوری طرح سے فاش ہوگیا اور الیکشن کمشنر گیانیش کمار کااصل چہرہ سامنے آگیا۔‘‘
سندھیا گوکھلے نے کہاکہ ’’ ایس آئی آر کی مخالفت ہی نہیں، یہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا تحفظ کرے، دوسرے کی مدد کرے اورتمام کمزور طبقات کی طاقت بن کر ان کے بھی ووٹ کے ادھیکار کے تحفظ کےلئے کمربستہ ہوجائے۔‘‘
ڈاکٹر سلیم خان نے بھی ایس آئی آر کی آڑمیں جاری کھیل کی سخت مخالفت اورالیکشن کمشنر کی سرزنش کی۔
پریس کانفرنس میں کون کون سی تنظیمیں شامل تھیں؟
اس پریس کانفرنس کا اہتمام یونائیٹڈ اگینسٹ اِن جسٹس اینڈ ڈسکریمینیشن ، پیپلز یونین فار سول لبرٹیز، اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس ، دی بمبئی کیتھولک سبھا اور سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔
۶؍مطالبات کیا ہیں؟
(۱) ایس آئی آر رَد کرو(۲) گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور دوسرے دو الیکشن کمشنروں کو بھی ہٹایاجائے (۳) ایس آئی آر کے نام پر کاٹے گئے تمام ناموں کو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے (۴) ۲۰۲۳ءمیں الیکشن کمشنر کے لئے وضع کئےگئے ضابطے اورانہیں دی گئی خصوصی رعایت فوراً ختم کی جائے (۵) فار م۶؍میںکی گئی من مانی تبدیلی اور فارم ۷؍ کے ذریعے کاٹے گئے ناموں کی تفتیش کی جائے اورخاطیوںکے خلاف مجرمانہ عمل کے تحت کارروائی کی جائے (۶)ایس آئی آر کے نام پرشہریوں کا سب سے بنیادی ووٹ کا حق چھیننے پر روک لگاکر،کس نے اس کی اجازت دی اس کا پتہ لگاکر سب کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےتاکہ آئندہ پھر کوئی ایسی جرأت نہ کرسکے۔