آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خود کشی کے بعد ایک طرف اس کے والدین آزاد میدان میں احتجاج کررہے ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ امتحانات میں نقل کے قوانین پر نظرثانی کررہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 2:56 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خود کشی کے بعد ایک طرف اس کے والدین آزاد میدان میں احتجاج کررہے ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ امتحانات میں نقل کے قوانین پر نظرثانی کررہا ہے۔
آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خود کشی کے بعد ایک طرف اس کے والدین آزاد میدان میں احتجاج کررہے ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ امتحانات میں نقل کے قوانین پر نظرثانی کررہا ہے۔ اس نے ہاسٹل روم میں سیلنگ فین کے۴؍ متبادل بھی پیش کئے ہیں جس میںٹیبل فین یا وال فین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا مشورہ طلب کیا ہے ۔ اس کے علاوہ تعلیمی ادارے نے خود کشی معاملہ کے لئے تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لینے اور بدھ کو سینیٹ کی میٹنگ میں طلبہ کے نقل کرنے پر ایک سمسٹرسےمعطلی کے قانون پر فی الحال روک لگا نے پر غور کیا جارہا ہے۔
کسی بھی طالب علم کے امتحان میں بد عنوانی یا نقل کرنے کے عمل کو روکنے کے لئے انسٹی ٹیو ٹ کی جانب سے ۲۰۲۶ء کے موجودہ قانون کے مطابق اسے ایک سمسٹر سے معطل کیا جاسکتا ہے ۔قانون کے مطابق امتحان کے دوران الیکٹرانک کسی بھی قسم کے آلات بشمول موبائل فون ، ٹبلیٹ اور اسمارٹ واچ جیسے گیجیٹ شامل ہیں ۔ یہی نہیں موجودہ قانون کے مطابق دوبارہ نقل کرنے پر پکڑے جانے پر معطلی بھی کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریاست میں خشک سالی کا اثر ممبئی کی پانی سپلائی پر ہونے کا اندیشہ
یاد رہے کہ انسٹی ٹیوٹ نے ۱۸؍ ستمبر کو آئی آئی ٹی کے طالب علم ساحل کی خود کشی کے بعدایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اس سلسلہ میں کی گئی جانچ کے بعد جو سفارشات پیش کی ہیں، ان میں ۲۰۱۵ ء کے قانون کے چند حصوں کو دوبارہ شامل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ۲۰۱۵ء کے قانون کے مطابق کسی بھی طالب علم کے نقل کرنے پر اسے معطل نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ سنگین نوعیت کے معاملات مثلاً اجتماعی نقل،بار بار خلاف ورزی یا کسی دوسرے شخص کی جگہ امتحان دینا جیسے واقعات میںجرم کی نوعیت اور اس کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کا تعین کیا جاتا تھا۔سابقہ قانون میں اگر امتحان کی نگرانی کرنے والا کسی طالب علم کو نقل کرتے ہوئے پکڑتا تھا تو طالب علم کے پاس سے ملنے والی چیزیں ضبط کر لی جاتی تھیں۔ تاہم اسے نیا جوابی پرچہ دے کر امتحان جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اس کے بعد واقعے کی رپورٹ تیار کرکے متعلقہ شعبے کے سربراہ کو بھیجی جاتی تھی اور کمیٹی نہ صرف اس کا جائزہ لیتی بلکہ اگر دستیاب ثبوت واضح نہ ہوں تو شک کا فائدہ طالب علم کو دیا جاتا تھا۔
طالب علم ساحل کی موت کے بعد تجویز کردہ کمیٹی نے جہاں ایک سے زیادہ اور منظم طریقہ کار تجویز کیا ہے وہیں کمیٹی کی تجویز پر نظر ثانی کرنے کے ساتھ میٹنگ میں سفارشات پر تبادلہ خیال جاری ہے۔