• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی کے عازمین کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرانے کا عمل آخری مرحلے میں

Updated: October 08, 2026, 2:49 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بچ جانے والے عازمین کو حج کمیٹی کی جانب سے یاددہانی کروائی جارہی ہےکہ وہ مزید تاخیر نہ کریں۔

Pilgrims are seen at the hospital for fitness certificates. Photo: INN
فٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے عازمین اسپتال میں نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

عازمین ِ حج کے میڈیکل سرٹیفیکیشن کا مرحلہ اب بھی ختم نہیں ہوسکا ہے۔ حالانکہ اس کی آخری تاریخ۳۰؍ ستمبر بتائی گئی تھی، اب بھی  کئی عازمین رہ گئے ہیں، ان کو حج کمیٹی کی جانب سے پیغام رسانی کی جارہی ہے کہ وہ مزید تاخیر نہ کریں تاکہ آگے کے مراحل طے کرنے میں دقت نہ ہو۔ یادرہےکہ عازمین پریشان تھے کیونکہ گنیش اتسو کے سبب بی ایم سی اسپتالوں کے ڈاکٹرس مصروف تھے لیکن آہستہ آہستہ یہ مرحلہ تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے۔

اس تعلق سے ریاستی حج کمیٹی کی سیکشن آفیسر خدیجہ نائیکواڑے سے استفسار کرنے پر انہوں نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’ جن عازمین نےاب تک فٹنس سرٹیفکیٹ جمع نہیںکرایا ہے، ان کی تعداد ۵۰؍ سے بھی کم ہوگی ، انہیں یاددہانی کرائی جارہی ہے کہ وہ مزید تاخیر نہ کریں تاکہ آگے کے مراحل میںدشواری نہ ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آررد کرنے، الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور ووٹر کےووٹ کےتحفظ کا پُرزور مطالبہ

انہوں نےیہ بھی بتایاکہ ’’ ممبئی شہر اورمضافات کے ۳۵۰۰؍عازمین کا فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کراناتھا، مسلسل کوشش کے بعد وہ تقریباًمکمل ہوگیا ہے اورجن عازمین نے اب تک فٹنس سرٹیفکیٹ جمع نہیں کرایا  ہے، ان کےتعلق سےیہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی میڈیکل رپورٹس نارمل ہے، اس لئے اب زیادہ پریشانی نہیں ہے، بیشتر عازمین فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے ساتھ اسے جمع بھی کراچکے ہیں ۔ ‘‘

خدیجہ نائیکواڑے کے مطابق ’’ عازمین کوپہلے بھی کہا گیا تھا اوراب بھی یہ وضاحت کی جارہی ہے کہ اس کی وجہ سے ایک بھی عازم کی سیٹ کینسل نہیں کی جائے گی، انہیں پریشان ہونے یا گھبرانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے مگر یہ ضرور ہے کہ اگر وقت اور تاریخ کی پابندی کے ساتھ کام کیا جائے توآگے مراحل طے کرنے میںآسانی ہوتی ہے اور اس سےحج کمیٹی اور عملہ کو ہی نہیں خود عازمین کے لئے بھی سہولت ہوتی ہے۔ عازمین کی جانب سے بھی اس معاملے میںمکمل تعاون رہا، اس سے مزیدآسانی ہوئی۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK