• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عرب لیگ کا اسرائیلی جیل میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ

Updated: November 02, 2026, 9:14 PM IST | Gaza

اسرائیلی جیل میں غزہ کے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات نے ایک بار پھر قیدیوں کے تحفظ اور جیلوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔

Symbolic image: INN
علامتی تصویر: آئی این این

عرب لیگ نے اتوار کو اسرائیل کی راملہ جیل میں قید غزہ کے فلسطینیوں پر تشدد اور منظم بدسلوکی کے الزامات کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لیگ نے اس واقعے کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے پر بھی زور دیا۔ عرب لیگ نے ایک بیان میں جیل کے ’ریکویٹ‘ ونگ میں قیدیوں پر بار بار کیے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کے نتیجے میں زیرِ حراست افراد زخمی ہوئے اور انہیں جلنے کے زخم بھی آئے ہیں۔ بیان میں ان کارروائیوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین، جن میں جنیوا کنونشنز اور تشدد کے خلاف کنونشن شامل ہیں، کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ عرب لیگ کے مطابق یہ اقدامات ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی

عرب لیگ نے بدسلوکی فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (آئی سی آر سی) اور آزاد مبصرین کو بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرے، تاکہ وہ جیل کے حالات کا جائزہ لے سکیں اور قیدیوں کو طبی سہولتیں فراہم کرسکیں۔ لیگ نے بیمار اور زخمی قیدیوں کی فوری رہائی اور من مانی حراست ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ بیان ۲۷؍ اکتوبر کو فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ریکویٹ ونگ میں غزہ کے قیدیوں پر بار بار کیے جانے والے حملوں کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

میڈیا آفس کے مطابق یہ حملے جمعہ اور ہفتہ کے روز کیے گئے۔ ان میں قیدیوں کو لاٹھیوں سے مارنے، مرچوں کے اسپرے، گیس، ربڑ کی گولیوں اور اسٹن گرینیڈز کے استعمال کے واقعات شامل تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ محافظ پولیس کے کتوں کے ساتھ ایک سیل میں داخل ہوئے اور قیدیوں کو ایک ایسے کمرے میں لے گئے جہاں نگرانی کے کیمرے نصب نہیں تھے۔ وہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میڈیا آفس نے خبردار کیا کہ بدسلوکی کا یہ سلسلہ قیدیوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن رہا ہے، خصوصاً ان افراد کیلئے جو پہلے ہی بیمار یا زخمی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند

عرب لیگ نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور جنرل اسمبلی پر زور دیا کہ وہ فلسطینی قیدیوں کے تحفظ اور ذمہ داروں کو سزا سے بچنے سے روکنے کیلئے اقدامات کریں۔ اس بیان پر اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ راملہ جیل وسطی اسرائیل میں واقع ہے اور اس کا انتظام اسرائیلی جیل سروس کے تحت چلایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK