ایران جنگ کے دوران خلیجی خطے میں حملوں کی شدت بڑھ گئی ہے، جہاں سعودی عرب، کویت اور بحرین کو نشانہ بنایا گیا۔ توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ علاقائی سلامتی دباؤ میں آ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 8:03 PM IST | Doha
ایران جنگ کے دوران خلیجی خطے میں حملوں کی شدت بڑھ گئی ہے، جہاں سعودی عرب، کویت اور بحرین کو نشانہ بنایا گیا۔ توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ علاقائی سلامتی دباؤ میں آ گئی ہے۔
(۱) ڈرون جنگ میں تیزی: سعودی عرب، کویت اور بحرین پر راتوں رات حملے
رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں ڈرون حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سعودی عرب، کویت اور بحرین میں راتوں رات حملے کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں میں توانائی اور اسٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس سے سیکوریٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ’’حملوں نے متعدد اہم تنصیبات کو متاثر کیا اور سیکوریٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔‘‘
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے بعد بعض علاقوں میں جزوی نقصان اور سروسیز میں خلل پیدا ہوا، جبکہ متعلقہ حکام نے فوری ردعمل کے تحت سیکوریٹی اقدامات سخت کر دیے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق یہ حملے ایران جنگ کے وسیع ہوتے دائرہ کار کی نشاندہی کرتے ہیں اور خلیجی ممالک کو براہ راست اس تنازع میں شامل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جنگ کے درپے، پزشکیان امن کے خواہاں
(۲) خلیجی سلامتی دباؤ میں: توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو خطرات
خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق تیل کی تنصیبات، بجلی گھروں اور پانی کی سپلائی کے نظام کو ممکنہ اہداف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام نے کہا کہ ’’اہم تنصیبات کے تحفظ کیلئے سیکوریٹی بڑھا دی گئی ہے۔‘‘
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے خدشات کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سیکوریٹی اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے توانائی سپلائی کے تسلسل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جبکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔