Updated: October 29, 2026, 8:30 PM IST
| Dubai
عرب ریڈنگ چیلنج نے اپنے دسویں ایڈیشن میں عالمی سطح پر شرکت کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جہاں مصر کی ۱۱؍ سالہ طالبہ نے ۴؍ کروڑ سے زائد طلبہ کو پیچھے چھوڑ کر ۵؍ لاکھ درہم کا انعام جیتا، جبکہ اس مقابلے میں مختلف ممالک کے اسکولوں اور طلبہ نے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
مایار عثمان الشورباغی۔ تصویر: ایکس
مصر سے تعلق رکھنے والی ۱۱؍ سالہ طالبہ مایار عثمان الشورباغی نے دسویں عرب ریڈنگ چیلنج میں چیمپئن کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے ۶۰؍ ممالک کے ۴؍ کروڑ سے زائد طلبہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دبئی میں منعقدہ فائنل تقریب میں ۵؍ لاکھ درہم کا انعام جیتا۔ جمعرات کو دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران متحدہ عرب امارات کے نائب صدر و وزیر اعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے فاتح طالبہ کو اعزاز سے نوازا۔
تیونس کے سیدی عامر پرائمری اسکول نے چیلنج میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اسکول کا ایک ملین درہم کا انعام جیتا۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید آل نہیان نے اسکول کو یہ اعزاز پیش کیا۔ دبئی کے ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے شام سے تعلق رکھنے والے بصارت سے محروم طالب علم محمود عمران کو ’’پیپل آف ڈٹرمینیشن‘‘ زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر اعزاز سے نوازا۔ انہیں ۲؍ لاکھ درہم کی انعامی رقم دی گئی۔
شرکت کا نیا ریکارڈ
عرب ریڈنگ چیلنج کے دسویں ایڈیشن میں ۶۰؍ ممالک کے مجموعی طور پر ۴؍ کروڑ ۲۸۶؍ ہزار ۴۲۸؍ طلبہ نے حصہ لیا۔ ان میں خصوصی ضروریات رکھنے والے ۷۴؍ ہزار ۶۲؍ طلبہ بھی شامل تھے۔ اس مقابلے میں ۱۳۸؍ ہزار ۴۲۶؍ اسکولوں اور ایک لاکھ ۶۱؍ ہزار ۵۰۷؍ نگرانوں نے شرکت کی، جو اس مہم کے بڑھتے ہوئے عالمی دائرۂ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ مجموعی چیمپئن شپ، ’’پیپل آف ڈٹرمینیشن‘‘ اور کمیونٹی کے زمروں میں کامیاب امیدواروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے اسکول اور نگران کے لیے بھی انعامات رکھے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا وینزویلا کو امریکہ کی۵۱؍ویں ریاست بنانے کا دعویٰ
مطالعے کی ایک دہائی
عرب ریڈنگ چیلنج کا آغاز ۲۰۱۵ء میں شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد نئی نسل میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا، عربی زبان کی مہارتوں کو مضبوط بنانا، علم سے محبت کو فروغ دینا اور ثقافتی ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اپنے دس ایڈیشنز کے دوران اس مہم میں طلبہ کی شرکت کی مجموعی تعداد ۲۰؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ ۱۰؍ لاکھ ۶۵؍ ہزار سے زائد اسکولوں اور ۱۱؍ لاکھ ۹۳؍ ہزار سے زیادہ نگرانوں کی شرکت بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو واپوزیشن کو اکثریت نہ ملنے پر فلسطینیوں کی زیرقیادت جماعتیں کنگ میکر
اس مقابلے میں طلبہ کی شرکت میں تقریباً ۱۰۱۹؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پہلے ایڈیشن میں ۳۶؍ لاکھ طلبہ نے حصہ لیا تھا، جبکہ دسویں ایڈیشن میں یہ تعداد بڑھ کر ۴؍ کروڑ ۲۸؍ لاکھ سے زیادہ ہوگئی۔ نویں ایڈیشن میں ۵۰؍ ممالک کے ۳؍ کروڑ ۲۲؍ لاکھ ۳۱؍ ہزار طلبہ شریک ہوئے تھے، جبکہ آٹھویں اور ساتویں ایڈیشن میں بالترتیب ۲؍ کروڑ ۸۲؍ لاکھ اور ۲؍ کروڑ ۴۸؍ لاکھ طلبہ نے حصہ لیا تھا۔ اس چیلنج کے تحت مختلف زمروں میں ہر سال مجموعی طور پر ایک کروڑ ۱۰؍ لاکھ درہم کی انعامی رقم مختص کی جاتی ہے۔ اس طرح دس ایڈیشنز کے دوران مجموعی انعامی رقم ۱۱۰؍ ملین درہم تک پہنچ گئی ہے۔