ارجنٹائنا نے یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کےبعد وہ دنیا کا آٹھواں ملک ہوگا جس نے ایسا کیا ہے، صدر میلی نے اسرائیل کے اپنے تیسرے سرکاری دورے پراس کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 10:04 PM IST | Tel Aviv
ارجنٹائنا نے یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کےبعد وہ دنیا کا آٹھواں ملک ہوگا جس نے ایسا کیا ہے، صدر میلی نے اسرائیل کے اپنے تیسرے سرکاری دورے پراس کا اعلان کیا۔
ارجنٹائنا آٹھواں ملک بننے جا رہا ہے جو اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرے گا۔ صدر جیویر میلی نے اسرائیل کے اپنے تیسرے سرکاری دورے کے دوران کہا کہ جیسے ہی حالات اجازت دیں گے، یہ اقدام آگے بڑھایا جائے گا۔واضح رہے کہ میلی نے پہلی بار فروری۲۰۲۴ء میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور جون ۲۰۲۵ء میں کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں ایک تقریر میں اس کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ منتقلی۲۰۲۶ء میں مکمل کی جائے گی۔جب کہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے،جبکہ فلسطینی مقبوضہ مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں، جو دیرینہ بین الاقوامی اتفاق رائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس میں ’ایچ ون بی ویزا پروگرام‘ پر تین سالہ پابندی کا بل پیش
یاد رہے کہ اسرائیل نے۱۹۶۷ء میں مشرقی یروشلم پر غیر قانونی قبضہ کیا تھااور بعد میں۱۹۸۰ء میں اسے اپنے ساتھ ملا لیا، حالانکہ یہ اقدام بین الاقوامی برادری کی طرف سے تسلیم نہیں کیا گیا۔بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد۴۷۸؍ میں اس الحاق کو مسترد کر دیا اور ممالک سے اپنے سفارتی مشن یروشلم سے واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔زیادہ تر ممالک اس کی متنازع حیثیت اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ جبکہ دنیا کے سفارتی مشن کی اکثریت اب بھی تل ابیب یا اس سے ملحقہ علاقوں میں واقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیلی فون پر گفتگو
بعد ازاں ارجنٹائنادنیا کا آٹھواں ملک بن گیا ہے، جس نے اسرائیل کے یروشلم پر غیر قانونی قبضے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ، گوئٹیمالا، ہونڈرس، پیراگوئے، کوسو ؤو، فجی، پاپوا نیو گنی بھی اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔