Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت انصاف کی کارکردگی بہتر بناتی ہے مگر انسانی نگرانی ضروری: سی جے آئی

Updated: April 26, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت انصاف کی کارکردگی بہتر بناتی ہے مگر خطرات کے پیش نظر انسانی نگرانی ضروری ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہندوستانی عدلیہ میں اے آئی کے کردار پر روشنی ڈالی۔

Chief Justice of the Supreme Court Surya Kant. Photo: INN
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستانی عدلیہ میں اے آئی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  مصنوعی ذہانت انصاف کی کارکردگی بہتر بناتی ہے مگر خطرات کے پیش نظر انسانی نگرانی ضروری ہے۔  جسٹس سوریہ کانت نے ہریانہ کے بھوانی میں چودھری بنسی لال یونیورسٹی کے پانچویں اجلاس سے خطاب کے دوران دیہی علاقوں کی لچک اور انصاف کے نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے عدالتی عمل کو ہموار کرنے میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے انتظامی کاموں اور قانونی تحقیق میں اس کی اہمیت پر تبصرہ کیا، جو بنیادی فرائض میں مداخلت کیے بغیر کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایس کو راہل گاندھی نے ’’راشٹریہ سرینڈر سَنگھ‘‘ قرار دیا

بعد ازاں چیف جسٹس نے واضح انتباہ دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی نگرانی کی خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ اس کی جگہ لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں تک مصنوعی ذہانت کا تعلق ہے، ہم اسے استعمال کرتے ہیں جہاں یہ ہمارے نظام کو فائدہ پہنچاتی ہے، لیکن انصاف اور فیصلہ سازی انسانی ذمہ داری ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بہت سے مثبت پہلو ہیں، تاہم غلط فیصلےجیسے خطرات موجود ہیں، اس لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: بھگوا عناصر کا چہیتا اسلام دشمن سلیم واستک قتل کا مفرور مجرم نکلا

دریں اثناء انہوں نے خاص طور پر الگورتھم اور غلط نتائج سے خبردار کیا، اور یقین دہانی کرائی کہ مضبوط حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے زیادہ تر دیہی اور زرعی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں کے طلبہ کی کامیابی شہری طلبہ کے مقابلے میں زیادہ محنت طلب ہوتی ہے۔ ان کا واحد راستہ محنت، لگن اور دیانتداری ہے۔عدالتی تاخیر سے نمٹنے میں پیش ر فت پر  بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے مقدمات کے بیک لاگ میں نمایاں کمی کے تعلق سے امید افزاءاعداد و شمار شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ، زیر التوا مقدمات میں تاخیر میں نمایاں کمی آئی ہے، اور مزید بہتری جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK