Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی کانگریس میں ’ایچ ون بی ویزا پروگرام‘ پر تین سالہ پابندی کا بل پیش

Updated: April 26, 2026, 7:04 PM IST | Washington

امریکی کانگریس میں ’ ایچ ون بی ویزا پروگرام‘(H-1B visa programme ) پر تین سالہ پابندی کیلئے نیا بل پیش کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کو محدود کرنا ہے۔ ریپبلکن لیڈر ایلی کرین کی جانب سے پیش کردہ اس بل میں ویزا نظام میں بڑی تبدیلیوں اور سخت شرائط عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

There have been calls for widespread reforms in the H-1B visa. Photo: INN.
ایچ ون بی ویزا میں پڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تصویر: آئی این این۔

امریکی کانگریس میں ریپبلکن ارکان کے ایک گروپ نے ایک بل پیش کیا ہے جس میں ’ ایچ ون بی‘ ویزا پروگرام پر تین سال کی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کو امریکی کارکنوں کی جگہ کم تنخواہ والے غیر ملکی کارکنوں کو لانےکیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ بل’’End H-1B Visa Abuse Act of 2026‘‘، جسے Eli Crane نے پیش کیا اس پروگرام پر عارضی پابندی کے ساتھ ویزا جاری کرنے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز دیتا ہے۔ بل کے مطابق سالانہ حد کو۶۵؍ ہزارسے کم کر کے۲۵؍ ہزار کیا جائے، کم از کم تنخواہ ۲؍ لاکھ ڈالر مقرر کی جائے، اور ویزا ہولڈرز کو اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ لانے سے روکا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: حملہ آورگرفتار: وہائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے بعد ٹرمپ کا ردِعمل آیا

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں نئے ایچ ون بی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جو امیگریشن پالیسی کو مزید سخت بنانے کا حصہ ہے۔ اس بل کو کئی ریپبلکن قانون سازوں کی حمایت حاصل ہے، جن میں برائن بیبن، برینڈن گل، ویزلی ہنٹ، کیتھ سیلف، اینڈی اوگلس، پال گوسر اور ٹام میک کلینٹاک شامل ہیں۔ ایچ ون بی ویزا پروگرام کو امریکی کمپنیاں خاص طور پر ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں میں ماہر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کیلئےوسیع پیمانے پر استعمال کرتی ہیں۔ ہندوستانی پیشہ ور افراد اس کے سب سے بڑے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ مجوزہ تبدیلیاں ہندوستان کے بیرونِ ملک افرادی قوت کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ فلسطین میں دیودار کے جنگلات اور ماحولیاتی تباہی کی حقیقت بے نقاب

بل میں پروگرام کی ساخت میں بھی اصلاحات کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت موجودہ قرعہ اندازی کے نظام کو ختم کر کے اجرت کی بنیاد پر انتخاب کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس میں زیادہ تنخواہ والی ملازمتوں کو ترجیح دی جائے گی۔ کمپنیوں کو یہ تصدیق بھی کرنی ہوگی کہ انہیں کوئی موزوں امریکی کارکن نہیں ملا اور حال ہی میں کسی کو نوکری سے نہیں نکالا گیا۔ مزید برآں، اس قانون سازی میں تیسرے فریق کی اسٹافنگ کمپنیوں کو ایچ ون بھی کارکنوں کی بھرتی سے روکنے، ویزا ہولڈرز کو ایک سے زیادہ ملازمتیں کرنے سے منع کرنے، اور انہیں مستقل رہائش (گرین کارڈ) کی طرف منتقلی میں رکاوٹ ڈالنے کی تجاویز شامل ہیں تاکہ ویزا کی عارضی نوعیت برقرار رہے۔ اس کے علاوہ، بل میں وفاقی اداروں کو غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی یا اسپانسرشپ سے روکنے اور آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ پروگرام کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: سالانہ کینسر کے مریضوں کی تعداد ریکارڈ ۴؍ لاکھ سے متجاوز: رپورٹ

اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو ایچ ون بی نظام میں بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں، جس سے اس تک رسائی مزید محدود ہو جائے گی اور کمپنیوں پر نگرانی سخت ہو جائے گی۔ توقع ہے کہ اس پر ٹیکنالوجی صنعت اور تارکینِ وطن کمیونٹیز کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آئے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK