ارجنٹائنا میں یونیورسٹی کی امداد میں تخفیف کے خلاف بڑے پیمانے پرشہریوں نے احتجاج کیا، دسیوں ہزار شہریوں نے ملک بھر کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکل کر صدر خاویر میلی کی طرف سے سرکاری یونیورسٹی نظام میں امداد میں کی جانے والی تخفیف کے خلاف احتجاج کیا۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 8:04 PM IST | Buenos Aires
ارجنٹائنا میں یونیورسٹی کی امداد میں تخفیف کے خلاف بڑے پیمانے پرشہریوں نے احتجاج کیا، دسیوں ہزار شہریوں نے ملک بھر کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر نکل کر صدر خاویر میلی کی طرف سے سرکاری یونیورسٹی نظام میں امداد میں کی جانے والی تخفیف کے خلاف احتجاج کیا۔
بیونس آئرس کے مرکز میں عوام کے ایک بڑے ہجوم نے سرکاری ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کیا تاکہ بجٹ میں ہونے والی کمی کے خلاف آواز بلند کی جا سکے، جو ملک کی اعلیٰ تعلیم کی مالی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے۔واضح رہے کہ ارجنٹائنا کا سرکاری یونیورسٹی سسٹم ۱۹۴۹ء سے مفت ہے اور اس نے پانچ نوبل انعام یافتہ پیدا کیے ہیں۔کانگریس نے گزشتہ سال آپریشنل اخراجات اور اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ایک قانون منظور کیا تھا، لیکن حکومت نے عدالت میں اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے سبب امریکیوں کو توانائی کی ۳۷؍ بلین ڈالر اضافی قیمت چکانی پڑی: تحقیق
میلی معمول کے مطابق یونیورسٹیوں کو بیدارذہنیت کی تربیت گاہیں قرار دیتے ہیں۔انہوں نے ریاستی اخراجات میں کمی کے اپنے منصوبے کے تحت امدادمیں تخفیف کی ہیں۔تاہم منگل کے احتجاج میں ہر عمر کے لوگ شامل ہوئے، کیونکہ معاشی سرگرمیوں میں کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث میلی کی مقبولیت میں گراوٹ آ رہی ہے۔کرپشن کے کئی اسکینڈلز نے بھی لوگوں کو مشتعل کر دیا ہے، خاص طور پر کابینہ کے سربراہ مانوئل ادورنی کے اخراجات کی تحقیقات نے۔مزید برآں میلی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سخت مالی مشکلات کے دوران ریاست لازمی امداد فراہم نہیں کر سکتی۔یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں جانے کی توقع ہے۔قابل ذکر بات ہے کہ میلی کے ۲۰۲۳ء میں اقتدار میں آنے کے بعد، مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے پروفیسروں کی تنخواہوں میں تقریباً۳۳؍ فیصد کمی آئی ہے۔