سوشل میڈیا پرکارروائی کی مخالفت میں پوسٹ کرنے والی ایک خاتون اور ایک نوجوان کی گرفتاری کے ساتھ ہی درگاہ کمیٹی کے ۴؍اراکین کیخلاف معاملہ درج۔
مزار کے گنبد پر بلڈوزر کارروائی کی تصویر۔ تصویر: آئی این این
اترپردیش حکومت مسلمانوں کے خلاف شکنجہ کسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی بلکہ اس کے مواقع تلاش کرتی ہے۔ اسی طرح کا معاملہ اب دیوریا میں دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں درگاہ اورمسجد کی انہدامی کارروائی کے بعد اب گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ یہاں گورکھپور اوور بریج کے پاس واقع درگاہ حضرت سید شہید عبدالغنی کے معاملے میں گزشتہ کئی دنوں سے انتظامیہ کی کارروائیاںمسلسل جاری ہیں۔ درگاہ کے انہدام کے بعد چار کمیٹی ممبران، اُس وقت کے قانون گو ا ور لیکھ پال کے خلاف فرضی طریقہ سے بنجر زمین پر درگاہ کے اندراج کیلئے مقدمہ درج کرایاگیاہے۔ اسی کے ساتھ سوشل میڈیا پراس کارروائی کی مخالفت میں پوسٹ کرنے والی افسانہ نامی ایک خاتون اور سراج انصاری نامی ایک نوجوان کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے انہدامی کارروائی روکے جانے کیلئے ڈی ایم دیوریا کو خط لکھا ہے جبکہ ضلع انتظامیہ نے وقف بورڈ کو لکھے خط میں درگاہ کو بورڈ سے ڈلیٹ کئے جانے کیلئے خط لکھا ہے اور تب تک کیلئے انہدامی کارروائی پر روک لگادی گئی ہے۔
دراصل، دیوریا میں ۵۰؍سال پرانی درگاہ سید عبدالغنی کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے۱۱؍اور ۱۲؍جنوری کو انہدامی کارروائی کی گئی تھی ۔ اس دوران درگاہ کا گنبد اور ۴؍ہزار اسکوائر فٹ کا ہال توڑدیاگیا۔دیوریا صدر کے ممبر اسمبلی شلبھ منی ترپاٹھی نے جون ۲۰۲۵ءمیں درگاہ کے غیر قانونی ہونے کی شکایت کی تھی۔جانچ کرائےجانے کے بعد رپورٹ میں کہا گیاکہ ۱۹۹۳ءمیںبنجر زمین پر غیر قانونی طریقہ سے درگاہ کا اندراج کرایاگیاتھااور ریونیو ریکارڈ میں اس کے اندراج کی کوئی قانونی بنیاد نہیںملی۔ اس معاملے میںچلنےوالے مقدمہ میں عدالت نے زمین کو بنجر قرادے دیا۔ معلوم رہے کہ مذکورہ درگاہ یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے دستاویزات میں بھی درج ہے۔ وقف نمبر ۱۹؍دیوریا،مزار عبدالغنی شاہ بابا اور قبرستان کرنا لہ کا اندراج وقف علی الخیرکے طور پر درج ہے۔ دفعہ ۳۷؍ میں اس کی چوہدی (اطراف میں کیا کیا ہے) کے ساتھ ہی کھسرہ نمبر ۱۶۴۷؍ اوررقبہ اعشاریہ ۱۲۰؍ہیکٹیئر لکھا ہواہے۔