• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی محاصرے میں غزہ کیلئے ٹرمپ کی نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کی حمایت

Updated: January 16, 2026, 1:16 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کیلئے ایک نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جو جنگ بندی کے نازک مرحلے کے دوران عبوری انتظام سنبھالے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور غزہ شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔

Donald Trump. Picture: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کی حکمرانی کیلئے ایک نئی مقرر کردہ فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے، جو اکتوبر میں شروع ہوئی تھی مگر اب بھی نازک صورتحال کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا:’’میں غزہ کے عبوری دور میں حکمرانی کیلئے نئی مقرر شدہ فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت، نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ، کی حمایت کر رہا ہوں، جو بورڈ کے اعلیٰ نمائندے کی سرپرستی میں کام کرے گی۔ ‘‘اکتوبر میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ٹرمپ کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی عبوری مدت کے دوران ایک بین الاقوامی نام نہاد’’بورڈ آف پیس‘‘ کی نگرانی میں غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ ایک علاحدہ پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس تشکیل دیا جا چکا ہے، جس کی صدارت وہ خود کریں گے، جبکہ اس کے ارکان کے نام جلد ظاہر کئے جائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے مؤخر کرنے کی اپیل، مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کا ٹرمپ پر دباؤ

اسرائیل نے بارہا طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے
اکتوبر میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل۴۴۰؍ سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چکا ہے، جن میں ۱۰۰؍ سے زائد بچے شامل ہیں۔ جنگ بندی کو اس وقت مزید دباؤ کا سامنا ہوا جب اسرائیل نے مصر کے ساتھ غزہ کی سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھولنے میں تاخیر کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر بلدیاتی انتخابی نتائج۲۰۲۶ء: ’مہایوتی‘ اور ٹھاکرے برادران میں سخت مقابلہ

اصل مشکل مرحلہ ابھی باقی ہے
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھاتے ہوئے، واشنگٹن اور اس کے ثالث شراکت داروں کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں حماس کا اسلحہ ڈالنا، اس عمل سے منسلک اسرائیلی فوجیوں کا مزید انخلا، اور ممکنہ طور پر ایک بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ ثالث ممالک ترکی، مصر اور قطر کے ایک بیان کے مطابق، فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی۱۵؍ ارکان پر مشتمل ہوگی جس کی قیادت علی شعث کریں گے، جو فلسطینی اتھاریٹی کے سابق نائب وزیر رہ چکے ہیں اور اس سے قبل صنعتی زونز کی ترقی کی نگرانی کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا:’’یہ فلسطینی قائدین ایک پُرامن مستقبل کیلئے غیر متزلزل طور پر پُرعزم ہیں۔ ‘‘کچھ ماہرین نے نگران بورڈ کے چیئرمین کے طور پر ٹرمپ کے کردار پر تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ڈھانچہ نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے مشابہت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ترکی، مصر اور قطر حماس کے ساتھ ایک ’’جامع غیر عسکریت سازی معاہدے‘‘ کو یقینی بنانے میں مدد کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK