آرٹیمس ۲؍ کے خلانوردوں نے ایک تاریخی قمری فلائی بائی انجام دی، قیمتی ڈیٹا جمع کیا اور چاند کے بے مثال مناظر دیکھے، لیکن ان کے ۱۰؍ روزہ مشن کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ابھی باقی ہے ۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 8:01 PM IST | New York
آرٹیمس ۲؍ کے خلانوردوں نے ایک تاریخی قمری فلائی بائی انجام دی، قیمتی ڈیٹا جمع کیا اور چاند کے بے مثال مناظر دیکھے، لیکن ان کے ۱۰؍ روزہ مشن کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ابھی باقی ہے ۔
آرٹیمس ۲؍ کے خلانوردوں نے ایک تاریخی قمری فلائی بائی انجام دی، قیمتی ڈیٹا جمع کیا اور چاند کے بے مثال مناظر دیکھے، لیکن ان کے ۱۰؍ روزہ مشن کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ابھی باقی ہے ۔ اس ہفتے کے آغاز میں، امریکی ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور اور کرسٹینا کوچ، کینیڈین جیریمی ہینسن کے ساتھ کسی بھی انسان سے زیادہ دور تک گئے۔ اس مشن کو مستقبل میں انسان بردار قمری لینڈنگز اور اس سے آگے کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق شام ۵؍بجکر ۷؍منٹ سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اسپلش ڈاؤن کریں گےجس کے بعد ناسا اور فوج ان کی مدد کریں گے کہ وہ کیپسول سے باہر آئیں اور انہیں ایک ریکوری جہاز تک لے جایا جائے گا۔
ان کا سفر سنگِ میلوں سے بھرپور رہا ہے اور اس کے نتیجے میں شاندار تصاویر سامنے آئی ہیں جنہوں نے زمین پر لوگوں کے تخیل کو مسحور کر دیا ہے۔ ناسا کے اسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امیت کھشتریہ نے جمعرات کو ایک بریفنگ میں کہا کہ لیکن جب تک خلانورد محفوظ طریقے سے واپس گھر نہیں پہنچ جاتے، کامیابی کی بات کرنا قبل از وقت ہے، اس اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہم اس وقت جشن منانا شروع کر سکتے ہیں جب ہمارے پاس عملہ بحفاظت جہاز کے میڈ بے میں ہو،یہی وہ وقت ہے جب ہم جذبات کو غالب آنے دے سکتے ہیں اورکامیابی کے بارے میں بات کرنا شروع کر سکتے ہیں۔‘‘
ناسا کا آرٹیمیس ۲؍ مشن انسانی خلائی تحقیق کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس میں خلاباز چاند کے مدار میں پہنچ رہے ہیں۔ اس ۱۰؍ روزہ مشن میں جہاں ٹیکنالوجی اور حفاظت اولین ترجیحات میں شامل ہیں، وہیں خلابازوں کی ہاضمہ صحت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے اوپیلا کی فلیگ شپ پروڈکٹ ڈلکولیکس کو ناسا کی آفیشل میڈیکل لسٹ اور فرسٹ ایڈ کٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کلاسک فلم ’’جاز‘‘ اگلے ہفتے ہندوستانی سنیما گھروں میں دوبارہ ریلیز ہوگی
خلا میں مائیکرو گریوٹی یعنی کم کشش ثقل نظام ہاضمہ کو سست کر دیتی ہے، جس سے قبض جیسے عام مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ محدود جسمانی سرگرمی اور خصوصی غذائیں بھی اس حالت کو بڑھا سکتی ہیں۔ لہٰذا، ناسا ان حلوں کو ترجیح دیتا ہے، جو محفوظ، قابل اعتماد اور موثر ہوں۔ ڈلکولیکس ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو اس کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈلکولیکس میں بیساکورڈل جزو آنتوں کی قدرتی حرکت کو تیز کرتا ہے، ہموار عمل انہضام کو یقینی بناتا ہے۔ یہ عام طور پر۶؍ گھنٹے کے اندر اندر اثر انداز ہوتا ہے اور نرمی سے راحت فراہم کرتا ہے، جب کہ یہ عادت کے بغیر بھی ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین باکسنگ میں ہندوستان کا ڈنکا: ہندوستان نے جیتے ۵؍ طلائی تمغے
برانڈ اینڈ انوویشن اوپیلا انڈیا کی ڈائریکٹر نوپور گربکسانی نے کہا کہ کے مشن کا حصہ بننا کئی دہائیوں کے اعتماد کا ثبوت ہے، جو ہم نے اپنے برانڈ پر قائم کیا ہے۔ ہم صحت کی دیکھ بھال کے ایسے حل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ہر حال میں کام کرتے ہیں - چاہے زمین پر ہو یا خلا میں۔