دسمبر کے بحران کے بعد کمپنی اقدامات پر مجبور، ٹرینی سے لے کر کیپٹن تک کے تمام عہدوں پر تقرری، ہندوستان میں شہری ہوابازی کے شعبہ میں سب سےبڑی بھرتی۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 12:43 PM IST | Mumbai
دسمبر کے بحران کے بعد کمپنی اقدامات پر مجبور، ٹرینی سے لے کر کیپٹن تک کے تمام عہدوں پر تقرری، ہندوستان میں شہری ہوابازی کے شعبہ میں سب سےبڑی بھرتی۔
ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن’ انڈیگو ‘بڑے پیمانے پر پائلٹوں کی بھرتی کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی ایک ہزار سے سے زیادہ پائلٹوں کی تقرری کرے گی۔ یہ ہندوستان کی شہری ہوابازی کے شعبے میں کسی بھی ایئرلائن کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی بھرتی مہم میں سے ایک ہے۔ انڈیگو نے یہ فیصلہ گزشتہ سال دسمبر میں آنے والی آپریشنل مشکلات کے بعد مجبوراً کیا ہے۔ دسمبر میں عملے کی کمی کی وجہ سے محض ۷؍ دنوں میں ۵؍ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئی تھیں اور ملک کے شہری ہوابازی کے شعبے میں کہرام مچ گیا تھا۔
بھرتی مہم کے تحت ٹرینی سے لے کر کیپٹن تک کے عہدوں پر تقرری کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیگو کی اس بھرتی مہم میں ٹرینی فرسٹ آفیسر، سینئر فرسٹ آفیسر اور کیپٹن کے عہدے شامل ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے توسیعی منصوبوں اور شہری ہوا بازی کے شعبے کے ضوابط کو پورا کرنے کیلئے یہ قدم اٹھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی امپیکٹ سمٹ سے قبل دہلی پولیس کی ٹریفک ایڈوائزری جاری
انڈیگو کا ہر ماہ اپنے بیڑے میں ۴؍ نئے طیارے شامل کر نے کا ارادہ ہے۔ انہیں اڑانے کیلئے نئے پائلٹوں کی بھی ضرورت ہے۔ کمپنی ہر ماہ۲۰؍ سے۲۵؍فرسٹ آفیسرس کو ترقی دے کر کیپٹن بنا رہی ہے۔ ایک ٹرینی آفیسر کو پوری طرح تیار ہونے میں ۶؍ماہ لگتے ہیں۔ کیپٹن بننے کے لیےایک ہزار ۵۰۰؍ گھنٹے پرواز کا تجربہ ضروری ہے۔ ڈی جی سی اے کے قواعد کے مطابق ہر طیارہ کیلئے پائلٹوں کے تین سیٹ (ایک کیپٹن اور ایک فرسٹ آفیسر) ہونا ضروری ہے لیکن انڈیگو کے طیاروں کا استعمال چونکہ بہت زیادہ ہے، اس لیے اسے مقررہ معیار سے دوگنے پائلٹوں کی ضرورت ہے۔ دسمبر کے بحران کےبعد جانچ میں پایا گیا تھا کہ کمپنی کو۲؍ ہزار ۴۲۲؍ کیپٹن درکار تھے، لیکن اس کے پاس صرف ۲؍ ہزار ۳۵۷؍ کیپٹن موجود تھے۔ بحران کو دیکھتے ہوئے ڈی جی سی اے نے۱۰؍فروری تک نائٹ ڈیوٹی کے قواعد میں کچھ عارضی چھوٹ دی تھی۔