ایک رپورٹ کے مطابق، جاپان اور ہندوستان کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط تعلقات اب ایک نئے اور متحرک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان تعلقات میں اب سیکوریٹی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں شراکت داری پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: February 15, 2026, 9:08 PM IST | Mumbai
ایک رپورٹ کے مطابق، جاپان اور ہندوستان کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط تعلقات اب ایک نئے اور متحرک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان تعلقات میں اب سیکوریٹی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں شراکت داری پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، جاپان اور ہندوستان کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط تعلقات اب ایک نئے اور متحرک دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان تعلقات میں اب سیکوریٹی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں شراکت داری پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔جاپان فارورڈکی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے مضبوط ہوتے آ رہے دوطرفہ تعلقات کو اب انڈو پیسیفک خطے میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور عوامی سطح پر بڑھتے روابط سے نئی توانائی مل رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ثقافتی تبادلے، ہندوستان میں جاپانی سرمایہ کاری میں اضافہ اور جدت و مینوفیکچرنگ میں تعاون نے تعلقات کو نئی رفتار دی ہے۔ دونوں ممالک عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایک آزاد، کھلے اور اصولوں پر مبنی انڈو پیسیفک خطے کو یقینی بنانے کے مشترکہ وژن رکھتے ہیں۔ اگست ۲۰۲۵ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے جاپان کے دورے کے دوران اُس وقت کے جاپانی وزیر اعظم شیگیرو اشیبا نے گزشتہ دہائی میں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کو سراہا اور سیکوریٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’جاپان اورہندوستان ، جو مشترکہ اقدار رکھتے ہیں، انڈو پیسیفک خطے میں قانون کی حکمرانی پر مبنی ایک آزاد اور کھلے بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی حالات تیزی سے غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں دونوں ممالک کو خطے میں امن و استحکام یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’دو دیوانے شہر میں‘‘کی روشنی مجھ سے کافی ملتی جلتی ہے: مرونال ٹھاکُر
فریقین نے اسپیشل اسٹریٹجک اینڈ گلوبل پارٹنرشپ کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جاپان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنما ایک دوسرے کی طاقتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل میں تکمیلی تعلقات کو فروغ دیں گے اور آنے والی نسلوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سماجی و اقتصادی اقدار کی تعمیر کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈکپ:’کالی آندھی‘ کا طوفان برقرار، نیپال بھی بہہ گیا
دسمبر ۲۰۲۵ء میں وزیر اعظم مودی نے موجودہ جاپانی وزیر اعظم سنائی تاکاشی سے ملاقات کی، جہاں دونوں لیڈروں نے ہندوستان-جاپان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ جاپان- ہندوستان انسانی وسائل کے تبادلے اور تعاون کے ایکشن پلان کے تحت دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں پانچ لاکھ افراد کے دوطرفہ تبادلے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے ثقافتی، تعلیمی، اقتصادی اور سیکوریٹی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’ہم نے آنے والے برسوں کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے، جس میں سرمایہ کاری، جدت، ماحولیات، ٹیکنالوجی، صحت، موبیلٹی، عوامی روابط اور ریاستی-صوبائی شراکت داری جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔‘‘