امیزون کے بانی جیف بیزوس نے اندیشوں کو غلط قرار دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی بنا پربیروزگاری بڑھے گی۔
امیزون کے بانی جیف بیزوس-تصویر:آئی این این
امیزون کے بانی جیف بیزوس نے اندیشوں کو غلط قرار دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی بنا پربیروزگاری بڑھے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ اے آئی ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اختراع کی رفتار کو تیز کرے گی، جس کے نتیجے میں مستقبل میں بے روزگاری کے بجائے افرادی قوت کی کمی (لیبر شارٹیج) پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ پانی کی قلت مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔
پیرس میں منعقدہ ’ویواٹیک ۲۰۲۶‘ کانفرنس میں جیف بیزوس نے اے آئی اور روزگار کے حوالے سے جاری عالمی بحث پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئےکہا کہ یہ ٹیکنالوجی نئی مشکلات کی نشاندہی اور ان کے حل کے عمل کو آسان بنا کر انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید وسعت دے گی۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کی بدولت لوگ زیادہ سے زیادہ مسائل کی نشاندہی کرنے کے قابل ہوں گے، جس سے مستقبل میں افرادی قوت کی کمی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس مباحثہ میں بلیو اوریجن کے چیف ایگزیکٹیو دیو لمپ نے بھی حصہ لیا۔جیف بیزوس نے اپنے نئے منصوبے ’پرومے تھیئس‘ کا بھی ذکر کیا، جو ایک اے آئی اسٹارٹ اپ ہے۔ اس کا مقصد ایک ’’آرٹی فیشل جنرل انجینئر‘‘ تیار کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی اختراع کے عمل کو غیر معمولی طور پر تیز کر دے گی اور ایسے نظریات کو عملی شکل دینا ممکن ہو جائے گا جن کا تصور پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ البتہ انہوں نے اے آئی کے ماحولیاتی اثرات، خصوصاً ڈیٹا سینٹروں کیلئے درکار بڑی مقدار میں پانی اور بجلی کی ضرورت پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے تو اس کے بنیادی ڈھانچے کیلئے ضروری وسائل کو ترجیح دینا ہوگی۔