Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوروویژن میں اسرائیل کی شرکت کی مخالفت میں فنکاروں نے برسلز میں متبادل پروگرام کا انعقاد کیا

Updated: May 14, 2026, 2:57 PM IST | Brussels

”یونائیٹڈ فار فلسطین“ کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں بیلجیئم سے یوروویژن کے سابق شرکاء، فلسطینی فنکار، مقامی موسیقار شریک ہوئے جنہوں نے یک جہتی کے پیغامات کو پیش کیا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد بیلجیئم کی این جی اوز، یونینوں اور یکجہتی گروپوں نے ”یوروویژن نہ دیکھیں۔ نسل کشی کیلئے کوئی اسٹیج نہیں۔“ کے نعرے کے تحت کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں فنکاروں اور کارکنوں نے ’یوروویژن گانا مقابلہ‘ (Eurovision Song Contest) میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاج کے طور پر برسلز میں متبادل مقابلہ کا انعقاد کیا۔ پروگرام میں منتظمین نے یوروویژن پر اتحاد اور انسانی حقوق کی اپنی بنیادی اقدار کو ترک کرنے کا الزام لگایا۔

”یونائیٹڈ فار فلسطین“ (United for Palestine) کے عنوان سے اس تقریب کا انعقاد منگل کو ہوا۔ اسی شام کو یوروویژن کا پہلا سیمی فائنل مقابلہ جاری تھا جس میں بیلجیئم اور اسرائیل پرفارم کر رہے تھے۔ منتظمین میں شامل بیلجیئم کی اداکارہ کیٹرین ڈی روئیشر نے کہا کہ جب ہمیں معلوم ہوا کہ اسرائیل یوروویژن میں شرکت جاری رکھے گا اور بیلجیئم کے براڈکاسٹرز بھی مقابلے میں شامل رہیں گے، تب سے اس مہم کا آغاز ہوا۔ 

ڈی روئیشر نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ”ہم نے محسوس کیا کہ غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے اسرائیل کی یوروویژن میں شرکت انتہائی متنازع ہے۔“ انہوں نے کہا کہ متبادل تقریب کا مقصد ”یوروویژن گانا مقابلے کے حقیقی مقصد، یعنی لوگوں کو متحد کرنا اور انسانی حقوق کی اقدار“ پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اورنج لائن کا قیام، اسرائیلی کنٹرول مزید وسیع ہونے کا انکشاف

”یونائیٹڈ فار فلسطین“ پروگرام میں بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے یوروویژن کے سابق شرکاء، فلسطینی فنکار، مقامی موسیقار شریک ہوئے جنہوں نے یک جہتی کے پیغامات کو پیش کیا گیا۔ اس تقریب کا انعقاد بیلجیئم کی این جی اوز، یونینوں اور یکجہتی گروپوں نے ”یوروویژن نہ دیکھیں۔ نسل کشی کیلئے کوئی اسٹیج نہیں۔“ کے نعرے کے تحت کیا۔

واضح رہے کہ ویانا میں ہونے والے اس سال کے یوروویژن میں اسرائیل کی شرکت نے پورے یورپ میں تنقید کو جنم دیا ہے۔ منتظمین کے مطابق، اس تقریب کا انعقاد کرنے والی یورپی براڈکاسٹنگ یونین (ای بی یو) کی جانب سے اسرائیل کو مقابلے کی اجازت دیئے جانے کے بعد آئس لینڈ، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلووینیا اور اسپین کے براڈکاسٹرز مقابلے سے دستبردار ہوگئے۔

ڈی روئیشر نے دلیل دی کہ اسرائیل کی شمولیت غزہ میں ”تشدد کو معمول بنانے“ میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سخت کارروائی نہ کرنے پر بیلجیئم کے سیاسی لیڈران پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سامعین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ بہت کم عمل کرتے ہیں؛ وہ کافی کچھ نہیں کر رہے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کو جنسی تشدد کا سامنا: این وائے ٹی کالم نگار

ڈی روئیشر نے ای بی یو کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ یوروویژن ایک غیر سیاسی پروگرام ہے۔ انہوں نے یوکرین جنگ کی وجہ سے روس کو مقابلے سے خارج کئے جانے کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ کہتے ہیں کہ یوروویژن سیاسی نہیں ہے، لیکن انہوں نے خود اسے سیاسی بنا دیا ہے۔ روس کو شرکت کی اجازت نہیں ہے، جبکہ اسرائیل کو ہے۔“

سنیچر کو ہونے والے یوروویژن فائنل کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈی روئیشر نے مقابلے کے مستقبل کے جواز پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ”میرے خیال میں یوروویژن جس شکل میں ابھی ہے، اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقابلے کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کے اپنے اصل مقصد یعنی ”ممالک کو متحد کرنے“ کی طرف واپس آنا چاہئے۔ انہوں نے فنکاروں پر بھی زور دیا کہ وہ خاموش رہنے کے بجائے انسانی اور سیاسی بحرانوں کے خلاف عوامی سطح پر آواز اٹھائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK