Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد سعودی عرب عالمی لاجسٹک مرکز بن کر ابھر آیا

Updated: May 14, 2026, 3:59 PM IST | Riyadh

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی آمدورفت کے لیے بند کیے جانے کے بعد خطے کی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

Photo: INN
تسویر: آئی این این

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی آمدورفت کے لیے بند کیے جانے کے بعد خطے کی صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جبکہ سعودی عرب عالمی سپلائی چین بحران کے دوران ایک اہم لاجسٹک مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے مشرقِ وسطیٰ کا تیل اور بڑی مقدار میں عالمی تجارتی سامان مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق آبنائے کی بندش کے باعث عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہوئی، تاہم سعودی عرب نے فوری طور پر شپنگ سیکٹر میں پانچ نئے لاجسٹک راستے فعال کر دیے۔

یہ بھی پڑھئے : آبنائے ہرمز میںبین الاقوامی مشن کیلئے سرگرمیاں تیز ہوئیں

یہ نئے راستے خلیج عرب کی بندرگاہوں کو مملکت کے وسطی اور شمالی علاقوں سے جوڑتے ہوئے بحیرہ احمر کی بندرگاہوں اور سعودی عرب کے شمال میں واقع ممالک تک پھیلتے ہیں۔ حکام کے مطابق بری اور ریلوے نقل و حمل پر مشتمل اس کثیر جہتی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کے ذریعے سامان کی ترسیل کی رفتار اور کارکردگی بہتر بنائی جا رہی ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عرب صحرا سے گزرنے والے بھاری ٹرکوں کے تیز رفتار قافلے عالمی معیشت کے لیے اہم متبادل سپلائی لائن بن چکے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ نیا لاجسٹک نظام عالمی تجارت کو جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سپلائی چین میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان کی شاہراہیں، ریلوے لائنیں اور بندرگاہیں ایک ہنگامی تجارتی شریان میں تبدیل ہو گئی ہیں، جو آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کم کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت زیادہ نمایاں ہوئی جب ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK